انوارالعلوم (جلد 21) — Page 56
انوار العلوم جلد ۲۱ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ لاہور ۱۹۴۸ء وزیراعظم تھا اور مالک کا اُستاد بھی ( یہ نظام الدین طوسی وہی ہیں جن کا نظام تعلیم فرنگی محل میں ایک عرصہ تک جاری رہا ہے ) اس نے مالک کو اپنے ساتھ لیا اور اُسے موسیٰ رضا کی قبر پر دعا مانگنے کے لئے لے گیا۔موسیٰ رضا کی قبر پر ان دونوں نے دعا کی۔مالک بھی دعا کیلئے سجدہ میں گرے اور وزیر بھی سجدہ میں گرا اور دعا کی کہ اے خدا! تو موسیٰ رضا کے واسطہ سے ہمیں جنگ میں فتح عطا فرما! تاریخ میں آتا ہے جب دونوں دعا سے فارغ ہوئے تو مالک نے وزیر سے پوچھا تم نے کیا دعا کی ہے؟ اس نے جواب دیا۔حضور میں نے دعا کی ہے کہ اے اللہ ! تُو میرے بادشاہ کو میدانِ جنگ میں فتح عطا فرما اور اس کے دشمنوں کو رسوا کر۔اس پر ۱۸ سالہ کی مالک نے کہا۔نظام الدین میں نے تو یہ دعا نہیں کی۔میں نے تو یہ دعا کی ہے کہ اے اللہ ! میں نہیں جانتا کہ میں قوم کے لئے مفید ہوں یا نہیں۔بادشاہ ہونے کا مدعی میں بھی ہوں میرا بھائی کی بھی ہے اور میرے چا بھی ہیں تجھے معلوم ہے کہ قوم کے لئے ہم میں سے کون سا وجو د مفید ہے اگر تو جانتا ہے کہ میں قوم کے لئے مفید ہوں تو کل کی جنگ میں مجھے کامیابی عطا فرما۔اگر میرے بھائی یا چچا قوم کے لئے مفید ہیں تو اے اللہ ! کل کی جنگ میں مجھے مروا د یکیو تا میں اُس نظام کے راستہ میں روک نہ بنوں جس کو تو قائم کرنا چاہتا ہے۔گبن جیسا متعصب مؤرخ لکھتا ہے مسلمان کا فر ہیں مگر عیسائی دنیا کی تاریخ میں جتنے بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں ان میں سے کسی ایک کی زبان سے بھی میں نے وہ کلمہ حکمت نہیں سنا جو اس کا فر ۱۸ سالہ نو جوان بادشاہ سے سنا ہے۔مجھ پر یہ بھی اثر ہوا۔میں نے وہ خط بند کر کے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے بیٹے اور پوتے بھی اس کام میں شامل ہیں اگر اس کام میں جان کی قربانی کی ہی ضرورت ہے تو اے خدا! اس عورت کے بیٹے واپس بھیج دیجیو اور میرے بیٹوں کو جان کی قربانی کی توفیق عطا فرمائیو۔پس موت کوئی چیز نہیں جس سے ڈرا جائے۔کون ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا موت بہر حال آئے گی لیکن کوئی موت عزت کی ہوتی ہے اور کوئی موت بے عزتی کی ہوتی ہے اگر کوئی شخص اپنے آپ کو موت سے بچانا چاہتا ہے تو اس سے زیادہ احمق اور کوئی نہیں۔پس اپنے اندر ایک نیا تغیر پیدا کرو اور جو نئی ذمہ داریاں خدا تعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہیں انہیں دوسروں سے زیادہ محسوس کرو۔اس میں کوئی محبہ نہیں کہ اس وقت حکومت تمہاری نہیں تم پاکستان میں اقلیت