انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 37

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۷ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء نہ اکٹھا ہو جائے۔اس قسم کا اعتراض کرنے والے بعض منافق ہیں لیکن پھر بھی مجھے حیرت آتی ہے کہ سکھوں کا گرو اگر کسی جگہ پر بیٹھا ہے تو اُنہوں نے اُسے پیڑ ھا صاحب کہنا شروع کر دیا۔اگر اُن کا گرو کسی چار پائی پر بیٹھا ہے تو اُنہوں نے اُسے منجا صاحب کہنا شروع کر دیا۔اگر کسی بیری کے نیچے کھڑا ہوا تو انہوں نے اُسے بیری صاحب کہنا شروع کر دیا۔جب کسی سکھ سے پوچھا جائے کہ یہ بیری صاحب کیا ہے تو وہ کہے گا ہمارے گر و صاحب اس کے نیچے بیٹھے تھے۔جب کسی سکھ سے پوچھا جائے یہ پیڑھی صاحب کیا ہے وہ کہے گا ہمارے گر وصاحب اس پر بیٹھے تھے۔جب پوچھا جائے کہ یہ منجا صاحب کیا ہے وہ کہے گا ہمارے گر و صاحب اس چار پائی پر بیٹھے تھے۔وہ وحشی قوم جو تمام روحانی اصولوں سے عاری ہے وہ سمجھتی ہے کہ ایک پیڑھی کو اس کی لئے برکت حاصل ہو سکتی ہے کہ اُن کا گرو اس پر بیٹھا تھا۔ایک چار پائی کو برکت حاصل ہو سکتی ہے کہ ان کا گرو اس پر بیٹھا تھا۔ایک بیری کو برکت حاصل ہو سکتی ہے اس لئے کہ ان کا گر و اس کے نیچے کبھی بیٹھا تھا۔مگر یہ منافق اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے کہ وہ جگہ جہاں خلافت قائم ہوگی کیا ہی با برکت نہیں ہوگی ؟ وہ جگہ یقیناً با برکت ہوگی اور یقیناً جب تک اس میں اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کی کیا جائے گا ، اس کی کتاب کو شائع کیا جائے گا ، اس کے دین کو پھیلانے کیلئے جدو جہد کی جائے گی وہ بابرکت رہے گی اور صرف وہ زمین ہی بابرکت نہیں ہوگی بلکہ اس کے رہنے والوں پر فرشتے اُترتے رہیں گے اور اس کی برکات کو دنیا کے دوسرے کناروں تک پہنچاتے رہیں گے۔تیسری بات یہ ہے کہ جب قادیان مل جائے گا تو گو ہمارا اصل مرکز وہی ہوگا لیکن ایک مرکز سے ساری دنیا کا کام نہیں چل سکتا بلکہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس کے ماتحت اور بھی چھوٹے چھوٹے مرکز قائم کریں۔کیا کسی ملک کے انتظام کے لئے صرف ایک بادشاہ کافی ہوتا ہے۔کسی ملک کے انتظام کے لئے ایک بادشاہ کافی نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اس کے ماتحت مختلف صوبوں میں گورنر ہوتے ہیں جو اُن صوبوں میں اُس کے نائب ہوتے ہیں مثلاً برطانیہ ہے بادشاہ تو برطانیہ میں رہتا ہے مگر آسٹریلیا، کینیڈا وغیرہ ممالک میں الگ الگ انتظام موجود ہے۔اسی طرح اگر چہ ہمارا مرکز قادیان ہی ہو گا مگر اس کے ماتحت ہمیں اور بھی کئی چھوٹے چھوٹے مراکز قائم کرنے پڑیں گے تاکہ وہاں اردگرد کے لوگ اپنی ضروریات کو پورا کر نے کیلئے اکٹھے