انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 38

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۸ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء ہوں اور وہاں مل کر کام کریں۔قادیان میں ہمارا ہائی سکول تھا اب اگر پشاور اور سیالکوٹ وغیرہ کی میں ہمارے ہائی سکول قائم ہو جائیں تو کوئی حرج کی بات نہیں ہوگی۔ان جگہوں کے لڑکے وہاں قائم شدہ اسکولوں میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔صرف ایک جگہ پر ہی ہائی اسکول کا ہونا کافی نہیں۔اب بھی ہمارے مدر سے کئی جگہوں پر ہیں۔اسی طرح نئے مرکز میں بھی لوگ آئیں گے اور سکولوں سے فائدہ اُٹھائیں گے۔یہ جگہ تو چھوٹی سی ہے اگر اسے اردگرد کے تین چار ضلعوں کا بھی مرکز بنا دیا جائے تو احمدیت کی ترقی کے بعد ہمیں اس سے بہت زیادہ جگہ کی ضرورت ہوگی۔اس جگہ کا آبادی والا رقبہ صرف چار ہزار کنال ہے۔اگر اس کو تین چار ضلعوں کا جی بھی مرکز بنا دیا جائے تو احمدیت کی ترقی کے بعد اس میں اور زیادہ توسیع کی ضرورت ہوگی۔احمدیوں کی ہندوستان میں سر دست دو تین لاکھ کی آبادی ہے جس کا مرکز قادیان تھا اس دو تین لاکھ کی آبادی کا مرکز کتنا بڑا ہو گیا تھا۔اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ربوہ کو اردگر کے پانچ ضلعوں کا مرکز قرار دے دیا جائے یعنی اسے شیخو پورہ ، سرگودھا، گوجرانوالہ گجرات اور جہلم کا کی مرکز قرار دیا جائے تو ان ضلعوں کی آبادی پچاس لاکھ ہے اگر یہ سب لوگ احمدی ہو جائیں تو ی یقیناً ان کے لئے ہمیں بہت بڑے مرکز کی ضرورت ہوگی۔پس قادیان کے مل جانے کے بعد بھی ربوہ اپنی حیثیت کو کھو نہیں سکتا۔چوتھا جواب یہ ہے کہ خانہ کعبہ اصل مسجد ہے مگر کیا اس خیال سے کہ ہم اس میں نمازیں ادا نہیں کر سکتے ہم دوسری مسجد میں بنانا چھوڑ دیتے ہیں ؟ مسجد تو اصل وہ ہے مگر کیا ہر شہر، ہر محلہ اور ہر گاؤں میں مسجد میں نہیں بنائی گئیں؟ باوجود اس کے کہ اصل مسجد موجود ہے۔دنیا میں ہمیشہ نئی سے نئی مسجد میں بنائی جاتی ہیں۔اگر ہم زمانہ کے لحاظ سے یا خرچ اور سفر کی وجہ سے خانہ کعبہ نہیں جا سکتے اور دوسری جگہوں پر مساجد بنا لیتے ہیں اور انہیں بے برکت قرار نہیں دیتے تو یہ کتنی بڑی بیوقوفی کی بات ہے کہ اگر ہم ایک نیا مرکز بنا لیں گے تو وہ بابرکت نہیں ہوگا۔دیکھو کا نپور میں ایک مسجد کے غسلخانے کی ایک دیوار گرا دی گئی تھی جس پر ہندوستان میں شور برپا ہو گیا تھا حالانکہ وہ مسجد نہیں ، مسجد کا غسالخانہ نہیں ، مسجد کے غسلخانہ کی صرف ایک دیوار تھی جس پر شور برپا ہو گیا۔خانہ کعبہ کی نقل میں پہلے عرب میں مسجدیں بنائی گئیں۔پھر عرب کی نقل میں ایران میں۔