انوارالعلوم (جلد 21) — Page 28
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۸ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء معنی غلط سمجھے ہیں۔اگر ۹۹ پیشگوئیاں ایک طرف ہوں اور ایک پیشگوئی ایک طرف ہو تو ایک پیشگوئی کے صادق نہ آنے کی وجہ سے باقی ننانوے پیشگوئیاں غلط نہیں ہو جائیں گی۔اگر آپ کے صدق کے ننانوے اور دلائل موجود ہیں تو ایک پیشگوئی اگر صادق نہ آئے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ آپ جھوٹے ہیں بلکہ یہ کہیں گے کہ ہم نے اس پیشگوئی کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔بہر حال جب کسی کی صداقت کے بہت سے نشانات اور دلائل ہوں تو کسی ایک نشان یا دلیل کے پورا نہ ہونے سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ اس کے باقی نشانات اور دلائل بھی غلط ہیں۔کثرت کے ماتحت قلت ہوتی ہے قلت کے ماتحت کثرت نہیں ہوتی۔تیسرا جواب اس کا یہ ہے کہ ہماری ہجرت کے متعلق پہلے سے پیشگوئی موجود تھی۔اگر یہ پیشگوئی پہلے سے موجود نہ ہوتی تب بھی کوئی بات تھی۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی صراحتاً موجود ہی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے داغ ہجر تھے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہمیں قادیان چھوڑنی پڑے گی۔اسی طرح آپ پر اللہ تعالیٰ نے وہی وحی نازل فرمائی جو اس کی نے رسول کریم ﷺ پر ہجرت کے متعلق نازل فرمائی تھی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ القُران كرَاكَ إلى معاد ت ہم اس ہستی کی قسم کھا کر کہتے ہیں جس نے تجھ پر قرآن کریم فرض کیا ہے کہ تو مکہ سے نکالا جائے گا اور پھر مکہ میں واپس لایا جائے گا۔یہی الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا کے جب یہی الہام آپ کو ہوا ہے تو پھر اس کے معنی بھی وہی ہوں گے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کے تھے کہ وہ تمہیں کی قادیان سے نکالے گا اور پھر قادیان میں اپنے فضل سے واپس لائے گا۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو وفات پاگئے ہیں اور پیشگوئی آپ کے بعد پوری ہوئی۔اگر اس پیشگوئی نے پورا ہونا تھا تو آپ کی زندگی میں ہی کیوں پوری نہ ہوئی ؟ اس سوال کا جواب خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجود ہے۔آپ فرماتے ہیں میرے ہاتھ میں قیصر و کسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں ، لیکن واقعہ یہ ہے کہ قیصر و کسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ میں نہیں دی گئیں بلکہ حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں دی گئیں جو آپ کے خلیفہ دوم تھے۔گویا اُس چیز کو جو حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں آنے والی تھی