انوارالعلوم (جلد 21) — Page 29
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۹ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دیا جانا قرار دیا۔درحقیقت یہ ایک عام دستور ہے کہ کبھی وہ بات جو ماتحت کے ساتھ کی جاتی ہے اُسے بزرگ کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے اور کبھی وہ بات جو بزرگ کے ساتھ کی جاتی ہے اُسے ماتحت کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے۔یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا یہ تھا کہ آپ کے ہاتھ میں قیصر و کسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں ہیں مگر ہوا یہ کہ وہ کنجیاں حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں دی گئیں۔اسی طرح آپ کی ایک اور رویا بھی ہے۔آپ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے پاس جنتی انگوروں کے دو خو شے لایا میں نے اس سے پوچھا یہ کس کیلئے ہیں ؟ تو اس نے کی جواب دیا کہ ان میں سے ایک خوشہ آپ کے لئے ہے اور دوسرا ابو جہل کے لئے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں اس کے جواب میں اتنا گھبرایا کہ میری آنکھ کھل گئی اور میں نے کہا کہ کیا خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا ایک نبی اور دشمن دونوں ایک ہی مقام پر ہیں ؟ خدا تعالیٰ کے نبی کیلئے بھی بہشت کے انگوروں کا خوشہ آیا ہے اور اس کے دشمن کے لئے بھی بہشت سے انگوروں کا خوشہ آیا ہے۔آپ فرماتے ہیں میرے دل پر اس رؤیا کی وجہ سے ایک بوجھ سا رہا۔یہاں تک کہ عکرمہ ایمان لایا تب اس رؤیا کی تعبیر میری سمجھ میں آئی کہ ابو جہل سے مراد عکرمہ تھا۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جگہ ابو جہل دکھایا گیا مگر اس سے مراد اس کا بیٹا تھا اور دوسری جگہ آپ کو یہ دکھایا گیا کہ قیصر و کسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں آپ کو ملیں مگر ملیں حضرت عمرؓ کو جو آپ کے دوسرے خلیفہ تھے۔اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ داغِ ہجرت کا الہام تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا مگر یہ پیشگوئی در حقیقت آپ کے خلیفہ دوم کے ساتھ وابستہ ہے۔چنانچہ یہ ہجرت کا واقعہ میری زندگی میں ہوا اور میں ہی آپ کا خلیفہ دوم ہوں۔اس کے علاوہ خدا تعالیٰ نے خود مجھ پر اس پیشگوئی کو اس طرح بار بارکھولا ہے کہ حیرت آ جاتی ہے میں نے اپنے رویا کئی لوگوں کو سنائے ہیں اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ واقعی حیرت انگیز ہیں۔میں نے ۱۹۴۱ء میں ایک رؤیا دیکھا تھا جو ۱۳ / جنوری ۱۹۴۲ء کے الفضل میں شائع شدہ موجود ہے میں نے دیکھا کہ قادیان پر حملہ ہوا ہے اور اس حملہ میں دشمن نے ہر قسم کے ہتھیار استعمال کئے ہیں اس کے نتیجہ میں ہمیں قادیان چھوڑنا پڑا ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ میں قادیان