انوارالعلوم (جلد 21) — Page 576
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۷۶ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی آہستہ آہستہ دو گھنٹے میں تمام عورتیں جمع ہو جائیں گی۔میں نے انہیں سمجھایا کہ اگر یہی طریق کی آئندہ بھی اختیار کیا گیا تو عورتیں یہ سمجھنے لگ جائیں گی کہ ہمیں دو گھنٹے پہلے بلا لیا جاتا ہے ہم دو گھنٹے گزار کر جائیں گی۔پھر ان عورتوں کو وقت پر لانے کے لئے تین گھنٹہ پہلے اعلان کرنا پڑے گا، پھر جب وہ دیکھیں گی کہ اُنہیں تین تین گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے تو وہ تین گھنٹے لیٹ پہنچا کریں گی۔اس پر انہیں چار گھنٹے پہلے بلانا پڑے گا اور آہستہ آہستہ یہ حالت ہو جائے گی کہ اگر بدھ کو پانچ بجے تقریر کرنی ہو تو اس کے لئے یہ اعلان کرنا پڑے گا کہ منگل کو پانچ بجے جلسہ ہوگا تا کہ عورتیں بدھ کے دن پانچ بجے وقت پر پہنچ جائیں۔حقیقت یہ ہے کہ جس قسم کی عادت ڈالی جائے اُسی قسم کی عادت پڑ جاتی ہے۔صحیح طریق یہ ہے کہ تم اپنے جلسوں کے اوقات کا جو اعلان کرو اُس کے مطابق عین وقت پر کارروائی شروع کر دو اس طرح عورتوں کے دلوں میں احساس پیدا ہوگا کہ ہمیں وقت پر پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جو عورتیں بعد میں آئیں گی وہ دل میں شرمندہ ہوں گی کہ ہم اپنی ستی کی وجہ سے تقریریں سننے سے محروم رہیں اور وہ کوشش کریں گی کہ آئندہ صحیح وقت پر پہنچیں۔آج میں نے عین سات بجے آکر تقریر شروع کر دی ہے اور یہی وقت میں نے تقریر کے لئے مقرر کیا تھا لیکن لجنہ اماء اللہ کے پروگرام کے مطابق میں دو گھنٹے دیر سے آیا ہوں۔اس تمہید کے بعد اور یہ نصیحت کرنے کے بعد کہ آئندہ مردوں اور عورتوں کے جلسے ٹھیک وقت پر شروع ہونے چاہئیں میں اُس مضمون کی طرف آتا ہوں جس کے لئے میں نے ابھی قرآن کریم کی ایک سورۃ پڑھی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ فلق میں ایک وسیع مضمون بیان فرمایا ہے جس کو بیان کی کرنا ایک بہت بڑے وقت کا متقاضی ہے اور در حقیقت اس کے لئے کئی گھنٹے بھی کافی نہیں ہو سکتے لیکن میری صحت کے لحاظ سے شاید اس وقت چند منٹ بولنا بھی مشکل ہو اور پھر میرا گلا بھی بیٹھا ہوا ہے تاہم میں کوشش کروں گا کہ جس قدر بیان کر سکتا ہوں بیان کر دوں۔ضمنا میں اس وقت ایک اور بات کا بھی ذکر کر دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ عورتیں بھی قوم کا ویسا ہی حصہ ہیں جیسا کہ مرد اس کا ایک حصہ ہیں۔تم یہ بات اپنے ذہنوں میں سے نکال دو کہ تم قوم کا حصہ نہیں ہو۔جب تک تم اس بات کو اپنے ذہنوں میں سے نہیں نکالو گی تم کسی قسم کی ترقی نہیں کر سکو گی۔