انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 575

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۷۵ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کوشش کرو (لجنہ اماءاللہ لاہور سے خطاب فرموده ۴ / جون۱۹۵۰ء بمقام رتن باغ لا ہور ) تشہد تعوذ ، سورہ فاتحہ اور سورہ الفلق کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میری طبیعت آجکل ایسی تو نہیں کہ میں یہاں کوئی تقریر کرسکتا۔لیکن ایک دن جبکہ مجھے شدید ہیٹ سٹروک کی تکلیف تھی اور میں سر درد سے اپنے بستر پر پڑا ہوا تھا لا ہور کی لجنہ اماءاللہ کی چند عہد یدار میرے پاس ربوہ پہنچیں اور اُنہوں نے کہا ہم نے سنا ہے کہ آپ تبدیلی آب و ہوا کے لئے بلوچستان جارہے ہیں۔ہم چاہتی ہیں کہ وہاں جانے سے قبل ہمارے اجتماع میں بھی ایک تقریر کر جائیں۔اپنی حالت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر میرا ذہن اس طرف گیا کہ میں انکار کر دوں لیکن جب میں نے دیکھا کہ میں تو اپنے کمرہ میں بھی گرمی اور لو لگنے کی وجہ سے بیمار ہوں اور بخار، سر درد اور دیگر کئی قسم کے عوارض میں مبتلا ہوں اور یہ اس شدید گرمی میں لا ہور سے چل کر آئی ہیں اور میں نے سمجھا کہ اگر میں ان کی بات کو رڈ کر دوں تو شاید یہ اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہو۔چنانچہ میں نے ان سے کہہ دیا کہ اچھا میں تقریر کر دوں گا لیکن میری تقریر شام کے وقت رکھنا تا کہ گرمی میں باہر نکلنے سے مجھے تکلیف نہ ہو۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں چونکہ وقت کی پابندی کی عادت نہیں ہے اس لئے سمجھانے کے باوجود لجنہ اماء اللہ نے میری تقریر کے لئے پانچ بجے کا اعلان کر دیا حالانکہ میں نے سات بجے یا زیادہ سے زیادہ ساڑھے چھ بجے وقت مقرر کرنے کی انہیں ہدایت دی تھی۔جب میں یہاں پہنچا اور میں نے اس بارہ میں شکوہ کیا تو لجنہ اماءاللہ کی طرف سے مجھے یہ جواب دیا گیا کہ عورتیں چونکہ وقت پر نہیں آتیں اس لئے ہم نے پانچ بجے کا اعلان کر دیا تا کہ