انوارالعلوم (جلد 21) — Page 24
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۴ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء ہو گیا ہے۔آپ نے پوچھا کون؟ کہنے لگی! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ نے پوچھا اُسے کیا کی ہوا ؟ اس لونڈی نے جواب دیا۔وہ کہتا ہے کہ مجھ سے خدا تعالیٰ کلام کرتا ہے اور مجھ پر فرشتے اُترتے ہیں۔آپ نے فوراً اپنی چادر سنبھالی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔آپ کے دوست نے اصرار کیا کہ گرمی زیادہ ہے دو پہر کا وقت ہے ذرا آرام کر لیں مگر آپ نے فرمایا اب میں ٹھہر نہیں سکتا۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پر تشریف لائے اور دستک دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کھولا۔حضرت ابو بکر نے جب آپ کو دیکھا تو دیکھتے ہی کہا۔میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں۔کیا آپ نے یہ کہا ہے کہ مجھ پر فرشتے اترتے ہیں اور خدا تعالیٰ مجھ سے کلام کرتا ہے؟ چونکہ مکہ میں ایک شور پڑا ہوا تھا کہ اور حضرت ابو بکر آپ کے پرانے دوست تھے آپ نے خیال کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اُسے ٹھو کر لگ جائے۔آپ نے فرمایا۔ابوبکر بات یہ ہے کہ آپ تشریح کر کے اپنا دعویٰ بتانے لگے کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا۔میں یہ نہیں سننا چاہتا۔آپ مجھے صرف یہ بتائیں کہ کیا آپ نے کہا تھ ہے کہ مجھ پر فرشتے اُترتے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر ! جلال میں کیوں آتے ہو بات تو سنو اصل بات یہ ہے کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا میں آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آپ اور کوئی بات نہ کریں آپ مجھے صرف یہ بتائیں کہ کیا آپ نے یہ کہا ہے یا نہیں کہ مجھ پر فرشتے اُترتے ہیں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں! میں نے ایسا کہا ہے۔حضرت ابو بکر نے فرمایا میں آپ پر ایمان لاتا ہوں ہے اس کے بعد اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ تو دلیلیں دے کر میرے ایمان کو خراب کرنے لگے تھے۔جب میں نے آپ کو پہلے ہی دیکھا ہوا تھا اور میں جانتا تھا کہ آپ جھوٹ نہیں بولتے تو پھر کسی دلیل کی ضرورت ہی کیا تھی۔آپ دلیلیں دے کر میرے ایمان کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔گویا میں مشاہدے کے بعد بھی کسی اور دلیل کا محتاج ہوں۔غرض آفتاب آمد دلیل آفتاب بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی دلیل آپ ہوتی ہیں ان کو دیکھنے کے بعد کسی اور دلیل کی