انوارالعلوم (جلد 21) — Page 522
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۲۲ اسلام اور ملکیت زمین نگہداشت نہیں کرتے اور یہ خرابی پاکستان میں ہندوستان سے زیادہ ہے۔کیونکہ یہ خرابی ہمیشہ نہری زمینوں میں ہوتی ہے اور پاکستان کا نہری علاقہ نسبتی طور پر ہندوستان سے بہت زیادہ ہے۔جہاں کہیں بھی نہریں جائیں گی لازما وہاں کے کچھ علاقوں میں سیم شروع ہو جائے گا اور سائنس کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سیم کے متعلق نہر کھودنے سے بھی پہلے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کب شروع ہو گا۔یہ اندازہ اکثر صورتوں میں صحیح ہوتا ہے۔جب پنجاب میں نہریں کھودی گئیں یا سندھ میں نہریں کھودی گئیں تو ماہرین سائنس نے قبل از وقت بتا دیا تھا کہ ی اتنے اتنے سال میں یہاں سیم شروع ہو جائے گی لیکن باوجود اس کے حکومت کی طرف سے اُس کا مقابلہ کرنے کی تیاری وقت پر نہ کی گئی۔اوّل تو ایسی صورت میں نہریں بناتے وقت ایسی کی احتیاطیں کرنی چاہئیں کہ سیم یا تو پیدا نہ ہو یا کم سے کم پیدا ہو۔لیکن اگر نہروں کے بنانے میں ایسی احتیاط کرنا بہت سے خرچ کو چاہتا ہو تو کم سے کم معالجاتی تدابیر تو فوراً شروع ہو جانی چاہئیں۔لیکن نہ حفاظتی تدابیر کی جاتی ہیں اور نہ معالجاتی تدابیر کی جاتی ہیں یہاں تک کہ مرض آجاتا ہے بلکہ پھیل جاتا ہے۔اگر وقت پر ان امور کا خیال نہ کیا جائے تو پھر یہ نا قابل حل مسئلہ بن جاتا ہے۔میرے نزدیک زمینداروں کی حالت درست کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس سوال کی طرف پوری توجہ دی جائے۔(۷) کاشت کے متعلق گورنمنٹ کی میرے نزدیک زمینداروں کی غربت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ طرف سے زمینداروں کو صحیح راہنمائی نہ ملنا حکومت کی طرف سے کاشت کے متعلق صحیح راہنمائی نہیں ہوتی اور اُن کے ساتھ صحیح تعاون نہیں ہوتا۔محکمہ زراعت تو بن گیا ہے لیکن مختلف محکموں کا آپس میں تعاون کوئی نہیں۔میں ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں جس سے ملک کو میرے نزدیک کروڑوں روپیہ کا نقصان پہنچا ہے اور وہ یہ ہے کہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ عام طور پر ایک ہی جگہ کا بیج استعمال کرتے رہنا فصل کو نقصان پہنچا تا ہے۔اچھی فصلوں کے لئے ضروری ہے کہ مختلف دوسری جگہوں سے بیج منگوا کر ڈالا جائے۔سندھ کے متعلق تو یہ تجربہ خطرناک حد تک صحیح ثابت ہوا ہے۔وہاں بیج بڑی جلدی خراب ہو جاتا ہے اور جب اُس میں