انوارالعلوم (جلد 21) — Page 523
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۲۳ اسلام اور ملکیت زمین بیماری آتی ہے تو وہ عارضی بیماری نہیں ہوتی بلکہ مستقل بیماری ہوتی ہے اور ہر سال لگتی ہے۔گزشتہ سالوں میں خوراک کے مہیا کرنے کی خاطر دوسری چیزوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی گئی تھیں لیکن اگر سوچا جائے تو چند ہزار من کپاس کا پیج پنجاب سے بھجوا کر ا گر سندھ کے اُن کی علاقوں کی اصلاح کر لی جاتی جن میں وہ بیج کامیاب ثابت ہوسکتا ہے تو ملک کو کروڑوں کروڑ روپیہ کا فائدہ پہنچتا اور چند ہزار من بنولہ بھجوانے سے خوراک کی تقسیم پر کوئی معتد بہ اثر نہیں پڑسکتا تھا۔خوراک کی نقل و حرکت کو درست رکھنا بے شک ایک نہایت اہم چیز تھی۔لیکن دیکھنے والی بات یہ تھی کہ جو نقصان بنولے کے پنجاب سے سندھ جانے پر پہنچتا تھا اس کے مقابلے میں اس کا فائدہ کتنا بڑا تھا۔ممکن ہے کہ ایک لاکھ آدمی کو ایک مہینہ تک ایک پاؤ روٹی اُس سے کم ملتی جو وہ کی کھاتا تھا لیکن موجودہ صورت میں تو کروڑوں روپیہ کا نقصان ملک کو پہنچ گیا۔پس یہ کوشش ہونی چاہیے کہ چونکہ زمیندارہ کا سوال ہمارے ملک کے لئے ایک نہایت ہی اہم سوال ہے کیونکہ ہماری زمین محدود اور ہماری آبادی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑھنے والی ہے اس لئے اس مسئلہ کو چوٹی کے مسئلوں میں سے سمجھ کر اس مشکل کو حل کیا جائے۔اسی طرح یہ امر بھی مدنظر رکھنے والا ہے کہ بیجوں پر اس نقطہ نگاہ سے بھی غور کیا جائے کہ کلر اور سیم میں کونسی اجناس پرورش پاسکتی ہیں یا بالکل پانی نہ دینے سے کونسی اجناس پرورش پاسکتی ہیں۔یہ تین مسائل ہمارے لئے زراعت میں سب سے زیادہ اہم ہیں۔یا تو ہمیں وہ بیج نکالنے پڑیں گے جو کلر اور سیم میں پرورش پاسکتے ہیں اور یا ہمیں اس بات کی طرف توجہ کرنی پڑے گی کہ ایسے بیج نکالیں جو بغیر پانی کے نشو و نما پاسکیں اور نہروں کو محدود کیا جائے تا کہ ہمارا ملک دلدل بن جانے سے بچ جائے ورنہ جس رنگ میں ہمارے ملک میں سیم بڑھ رہی ہے تمھیں پینتیس سال میں اس رفتار کے ساتھ اُس کی حالت ایسی ہو جائے گی کہ روپیہ پیدا کرنے والی فصلیں تو الگ رہیں اپنے ملک کے لئے خوراک مہیا کرنا بھی مشکل ہو جائے گا اور زمیندار ہاری کا سوال بالکل مٹ جائے گا سوال ہر پاکستانی کی روٹی کا پیدا ہو جائے گا۔