انوارالعلوم (جلد 21) — Page 480
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۸۰ اسلام اور ملکیت زمین معاف کر نے کا کسی کو حق ہے۔شاہ صاحب کے مندرجہ بالا حوالہ میں یہ بھی ذکر آتا ہے کہ بعض علماء نے ہندوستان کی زمین کو سواد عراق کی زمین کا قائم مقام قرار دیا ہے اور اس لئے یہ ساری زمین حکومت کی مملوکہ ہے۔اس حوالہ کا کوئی تعلق زمینداری کی بحث کے ساتھ نہیں لیکن آجکل اس حوالہ کے غلط معنی لے کر بعض لوگ ناجائز فائدہ اُٹھا رہے ہیں وہ لوگ اس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ سواد عراق کی زمین اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام نے زمینوں کو حکومت کی ملکیت میں رکھنے کا حکم دیا ہے اور کی اس لئے تمام اسلامی حکومتوں میں جس قدر زمینیں پائی جاتی ہیں وہ سب حکومت کی ملکیت قرار دی جانی چاہئیں۔سوادِ عراق کی زمینوں کے مسئلہ کو شاید ہندوستان میں جو اہمیت دی جا رہی ہے اُس کا پہلا بانی میں ہوں۔آج سے قریباً ۲۷ سال پہلے میں نے خلافت پر لیکچر دیئے تھے اور ان میں اس زمین کے سوال کو اختلافات کی بنیادوں میں اہم بنیاد ثابت کیا تھا۔میرے یہ لیکچر خدا تعالیٰ کے فضل سے علمی دنیا میں خاص طور پر مقبول ہوئے تھے اور بعض اسلامی کالجوں میں پرائیوٹ سٹڈی کے طور پر مقرر کئے گئے تھے۔شاید اُس وقت میرے ذہن میں بھی یہ بات نہ تھی کہ کسی زمانہ میں یہی مسئلہ ایک اور شکل اختیار کر کے ملک میں فتنہ کا موجب بن جائے گا۔سواد عراق کی زمینوں کی حقیقت یہ ہے کہ جب عراق فتح ہوا تو عراق میں جو شاہ ایران کسری کی مملوکہ زمین تھی وہ مسلمانوں کے قبضہ میں آئی۔اُس وقت تک طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی ملک بزور شمشیر فتح ہوتا تھا اور اُس کے متعلق کوئی معاہدہ نہ ہوتا تھا تو تمام سرکاری زمینیں یا اُن کی لوگوں کی زمینیں جو عملاً لڑائی میں شامل ہوتے تھے چھین کر مسلمان مجاہدین میں تقسیم کر دی جاتی ہے تھیں سوائے اُتنے حصہ کے جو قرآن کریم نے اموالِ غنیمت میں سے خدا تعالیٰ اور حکومت کا مقرر فرمایا ہے۔چونکہ ابتداء زمینیں کم آتی تھیں اور مسلمان محتاج زیادہ تھے یا بعض ایسے حقدار مسلمان ہوتے تھے جنہوں نے اسلام کی بڑی خدمات کی ہوئی ہوتی تھیں اُن کو دوسرے لوگوں کی سے زیادہ معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا جاتا تھا اس لئے عراق کی فتح تک تمام ایسی زمینیں جو حکومت کی ملکیت ہوتی تھیں یا لڑنے والے افراد کی ملکیت ہوتی تھیں مسلمانوں میں تقسیم کر دی جاتی ہے تھیں۔خدا تعالیٰ اور حکومت کا حصہ بھی قریباً قریباً ساتھ کے ساتھ تقسیم ہوتا چلا جاتا تھا کیونکہ آخر