انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 481

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۸۱ اسلام اور ملکیت زمین وہ بھی پبلک کے فائدہ کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔فرق اتنا تھا کہ وہ حصہ ایسے غرباء کومل جاتا تھا جو لڑائی میں شامل نہیں ہوتے تھے یا اُن لوگوں کو مل جاتا تھا جن کو اُن کے غنیمت کے حق سے زیادہ دینے کا فیصلہ کیا جاتا تھا لیکن جب عراق فتح ہوا تو چونکہ عراق میں شاہ کسری کی بہت بڑی بڑی زمینیں تھیں اسی طرح اُس کے اُمراء کے بہت بڑے بڑے علاقے خالی پڑے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو اب کافی زمینیں مل چکی ہیں اب آئندہ فوجوں کے اخراجات غنیمت کے مال سے نکلنے مشکل ہو نگے اس طرح آئندہ آنے والی نسلوں کی امداد اگر حکومت کرنا چاہے گی تو اُس کے لئے بھی روپیہ کی ضرورت ہوگی پس انہوں نے فیصلہ کیا کہ سر دست سواد عراق یعنی عراق کی غیر مملوکہ زمین اور بعض کے نزدیک شام کے علاقہ کی کچھ زمین یا دوسرے لفظوں میں سرکاری زمین موجودہ مجاہدین میں تقسیم نہ کی جائے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس فیصلہ کے اعلان سے پہلے صحابہ سے مشورہ کیا تو صحابہ نے اُن کی سے اس بارہ میں سخت اختلاف کیا اور اصرار کیا کہ یہ زمین سابق دستور کے مطابق فوراً مسلمانوں میں تقسیم ہو جانی چاہئے۔چنانچہ اس کی تفصیل کتاب الخراج میں اس طرح آتی ہے۔قال ابو يوسف وحدثني غير واحد من علماء اهل المدينة قالوا۔۔۔۔لما جاء فتح العراق شاور الناس في التفصيل۔۔۔وشاورهم في قسمة الارضين التي افاء الله على المسلمين من ارض العراق والشام فتكلم قوم فيها وارادوا ان يقسم لهم حقوقهم وما فتحوا فقال عمر رضى الله عنه فكيف بمن ياتي من المسلمين فيجدون الارض بعلوجها قد اقتسمت و ورثت عن الاباء وحيزت - ماهذا رأيي۔۔۔والله لا يفتح بعدى بلد فيكون فيه كبير نيل بل عسى ان يكون كلا على المسلمين فاذا قسمت ارض العراق بعلوجها وارض الشام بعلوجها فما يسدبه الثغور وما يكون للذرية والارامل بهذا البلد وبغيره من اهل الشام والعراق۔۔۔۔۔۔قدرأيت ان احبس الارضين بعلوجها واضع عليهم فيها الخراج وفي رقابهم الجزية يؤدونها فتكون فيئا للمسلمين المقاتلة والذرية ولمن يأتى من بعدهم ارأيتم هذه الثغور لا بدلها من رجـال يـلـزمـونـها أرئيتم هذه المدن العظام كالشام والجزيرة والكوفة