انوارالعلوم (جلد 21) — Page 349
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۴۹ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی جب اجلاس ہو رہا تھا تو جماعت کے ساٹھ فیصدی احباب باتیں کر رہے تھے یہ نہایت افسوسناک امر ہے۔نیکی کے کام کی جگہ پر باتیں کرنا منع ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن جب خطبہ ہو رہا ہو اُس وقت باتیں کرنا تو کجا کسی قسم کا اشارہ کرنا کی بھی منع ہے۔سے اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ خطبہ کو کوئی سہرا تو نہیں لگا ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت باتیں کرنا صرف اس لئے منع فرمایا ہے کہ اس وقت نیکی کی باتیں ہو رہی تج ہوتی ہیں۔پس احباب جب جلسہ گاہ میں آیا کریں تو کچھ تکلیف اُٹھا کر جلسہ گاہ میں بیٹھا کریں کی اور جب جلسہ گاہ میں بیٹھیں تو کچھ تکلیف اُٹھا کر نیکی کی باتیں سنا بھی کریں اور اُن پر عمل کیا ہی کریں اور اگر ان میں سے کوئی کام بھی نہ کر سکیں تو جلسہ گاہ میں ہی نہ آیا کریں۔آخر آپ کی لوگوں میں سے کتنے ہیں جن کو سال میں کئی بار مرکز میں آنے کا موقع ملتا ہے۔آپ لوگوں میں سے بعض کے لئے سال میں یہی دو تین دن ہوتے ہیں جن میں وہ مرکز کی برکات سے فائدہ اُٹھاتی سکتے ہیں اس لئے دوستوں کو چاہیے کہ وہ یہ کوشش کریں کہ ان دنوں کو زیادہ سے زیادہ عمل میں لگایا جائے۔ایسے اجتماعوں کے موقع پر خصوصاً اس جنگل میں بعض مجبوریاں بھی پیش آ جاتی ہیں کی دوستوں کو چاہیے کہ وہ ان کی پرواہ نہ کریں بلکہ ان سے بھی لطف اُٹھا ئیں۔بعض دفعہ لوگ عشق کی باتوں کو بدتہذیبی یا حماقت بھی کہہ دیتے ہیں لیکن عشق جہاں عقل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہاں وہ اپنے اندر وارفتگی کا رنگ بھی رکھتا ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے آپ نے ایک نہایت اچھا کپڑا پہنا ہوا تھا۔ایک صحابی نے دیکھ کر کہا يَا رَسُولَ الله یہ کپڑا مجھے عطا کر دیں۔آپ نے وہ کپڑا اُسے دے دیا۔دوسرے صحابہ نے اُس صحابی کو ملامت کی۔اُنہوں نے کہا میں نے یہ کپڑا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لئے مانگا ہے کہ آپ کو یہ زیادہ پسند تھا اور میں نے چاہا کہ اس سے اپنا کفن بناؤں سو میں نے آپ سے اپنے لئے کفن مانگ لیا۔یہ جواب سن کر دوسرے صحابہ کو رشک پیدا ہونے لگا کہ یہ کپڑا ہم نے کیوں کی نہ مانگ لیا۔کے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت سے بیمار ہوئے تو آپ۔