انوارالعلوم (جلد 21) — Page 350
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۵۰ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی فرمایا۔میں صرف ایک پیغامبر ہوں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس آیا ہوں۔جو ذمہ داریاں تم پر ہیں وہ مجھ پر بھی ہیں۔جہاں تک مجھ سے ہو سکا میں نے آپ لوگوں کے حقوق کو ادا کیا ہے لیکن ممکن ہے مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہو یا تم میں سے کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن تمہیں ہر چیز کا بدلہ دینا پڑے گا سو میں نہیں چاہتا کہ خدا تعالیٰ مجھ سے قیامت کے دن بدلہ لے۔اگر مجھ سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچی ہو تو وہ مجھ سے یہیں بدلہ لے لے۔ظاہر ہے کہ ایسے محبوب کی بیماری کی حالت میں جسے صحت کی حالت میں بھی کوئی دُکھ دینا برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا، یہ فقرات سن کر صحابہ کا کیا حال ہوا ہوگا۔وہ مچھلی کی طرح تڑپ گئے مگر ایک صحابی آگے بڑھا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ الله! مجھے آ۔سے ایک تکلیف پہنچی ہے میں اُس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔یہ سن کر دوسرے صحابہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور اُنہوں نے چاہا کہ اگر ممکن ہو تو اس صحابی کی تکہ بوٹی کر دی جائے لیکن اس صحابی نے ان کی طرف نہ دیکھ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھتے رہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے اگر مجھ سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اس کا بدلہ لے لو۔اس صحابی نے کہا يَا رَسُولَ الله! فلاں جنگ کے موقع پر جب آپ اسلامی لشکر میں صف بہ صف پھر کر نقص دور فرما رہے تھے آپ پیچھے کی طرف سے ہماری صف کو چیرتے ہوئے گزرے اُس وقت آپ کی کہنی میری پیٹھ پر لگی تھی میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میری پیٹھ ہے اسے کہنی مارلو۔اس پر اُس صحابی نے کہا يَا رَسُولَ الله! جب آپ کی کہنی میری پیٹھ پر لگی اُس وقت میری پیٹھ نگی تھی اس پر کر یہ نہیں تھا اور آپ نے کرتہ پہنا ہوا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری پیٹھ پر سے کپڑا اٹھا دو تا کہ یہ شخص اپنا چی بدلہ لے لے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر سے کپڑا اٹھایا گیا۔صحابہ کی آنکھوں سے خون بہنے لگا مگر اس شخص کی آنکھوں میں محبت کے آنسو آ گئے وہ جھکا اور آپ کی پیٹھ پر بوسہ دے کر اس نے کہا يَا رَسُولَ الله! پتہ نہیں پھر کب ملاقات ہو میں نے چاہا کہ اس بہانہ سے آخری دفعہ پیار تو کرلوں۔۵ے غرض عشق کی مختلف شانیں ہوتی ہیں۔وہی صحابہ جن کا دل چاہتا تھا کہ اس شخص کے تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں کیونکہ اُس نے ایک نامعقول حرکت کی