انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 269

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۶۹ خدام الاحمدیہ کے قیام سے وابستہ توقعات یہ چاہیے کہ اُس کا عمل اسلام اور احمدیت کی شان کے مطابق ہے یا نہیں ؟ کیونکہ اگر کوئی نمازوں کی کا پابند نہیں اور دین کی خدمت کے لیے ہر وقت پیش پیش نہیں رہتا تو وہ محبت کی بجائے نفرت کا مستحق ہے۔بلکہ اہل بیت کے معاملے میں تو قرآن کریم کا ارشاد نہایت ہی سخت ہے کہ اگر وہ ای کوئی غلطی کریں گے تو اُنہیں دُگنی سزا ملا کرے گی۔میں نے دیکھا کہ صدارت کے لیے بعض نام محض اس لیے تجویز کر دیے گئے کہ وہ مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں حالانکہ جب تک مذہب کی صحیح روح کسی شخص میں پیدا نہ ہو جائے اُس وقت تک کو ئی صحیح مومن نہیں ہوسکتا۔( حضور نے فرمایا) بعض لوگ ماں باپ اور رسولوں کے مقام بیان کرتے وقت نہایت غلو کر جاتے ہیں اور بعض انتہائی خشکی بھی برتتے ہیں لیکن چاہیے یہ کہ حفظ مراتب رہے اور ہر چیز اپنے مقام پر ہو۔اس طرح کہ اس کے نتیجے میں احمدیت کو کوئی فائدہ پہنچے ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ : گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی ( حضور نے فرمایا ) میرے نزدیک بہت ہی کم جماعتوں نے صحیح طور پر کام کیا ہے۔لہذا میرے سامنے دو ہی صورتیں تھیں۔اس تحریک کو ختم کر دوں یا درست کرنے کی کوشش کروں۔اِن دونوں صورتوں میں سے میں نے درست کرنے کی کوشش کو اول پر ترجیح دی۔اب میں اس مجلس کا براہ راست صدر ہوا کروں گا۔اور ایک نائب صدر جو مجلس مرکز یہ کا ممبر ہوا کرے گا میرے احکام کی تنفیذ کیا کرے گا۔نائب صدر کا یہ کام ہو گا کہ وہ تمام مجالس سے میرے احکام یا کمیٹی کے فیصلوں کی تعمیل کرایا کرے۔اسی طرح مرکز میں ایک مستقل سیکرٹری ہوا کرے گا جس کے لیے چالیس سال کی چی عمر کی قید نہیں ہوگی۔پھر ہر صوبے کا علیحدہ ایک ایک نائب صدر اور ایک ایک سیکرٹری ہوگا۔ہر سال مرکز میں دو دفعہ چودہ چودہ دنوں کے لیے تربیتی کورس ہوا کریں گے جن میں خدام تربیت حاصل کر کے اپنی اپنی مجالس میں دوسرے خدام کو تربیت دیا کریں گے۔( حضور نے فرمایا ) ان تمام اخراجات کا بجٹ خدام کو خود پورا کرنا ہوگا۔ہر ملازم ، تاجر اور زمیندار اپنی آ۔