انوارالعلوم (جلد 21) — Page 268
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۶۸ خدام الاحمدیہ کے قیام سے وابستہ توقعات تو قعات کو پورا نہ کیا جس رنگ میں کہ میں چاہتا تھا۔حالانکہ میں نے ان کی سرگرمیوں کا ایک ماں کی آنکھ سے جائزہ لیا۔اُس ماں کی طرح جس کی نظر ہمیشہ اپنے بچے کے حسن ہی پر پڑتی ہے خواہ وہ اُس کے عملی جسم کے کسی کونے میں ہو۔میں چاہتا تھا کہ یہ با قاعدہ اور باجماعت نمازی بن جائیں ، ان میں تہجد گزاری کا شوق بڑھ جائے ، ان کو تبلیغ دین کا چسکا پڑ جائے اور یہ دین کے لیے قربانی و ایثار کے مجسمے بن جائیں۔لیکن خدام الاحمدیہ نے میری اِن تمام تو قعات کو اُس حد تک پورا نہ کیا جس حد تک میں چاہتا تھا کہ ہو۔لہذا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ تنظیم کو بدل کر ایک نئے رنگ میں ڈھال دیا جائے اور یہ کوشش کی جائے کہ ان میں روحانیت کے وہ تمام جو ہر پیدا ہو جائیں جو پیدا کرنا اس تنظیم کے قیام کے وقت مقصود تھا۔چنانچہ اس نئے فیصلے کے مطابق آئندہ کے لیے مجلس خدام الاحمدیہ کا صدر میں ہوا کروں گا اور شوری کی طرح اس کے اجتماع بھی میری ہی صدارت میں ہوا کریں گے۔سوائے اس کے کہ میں موجود نہ ہوں اور کسی کو اپنی طرف سے نگران مقرر کر دوں۔اس کے بعد آپ نے خدام الاحمدیہ کے گزشتہ سال کے انتخاب صدر کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا ) مجھے افسوس ہے کہ خدام الاحمدیہ کے قواعد وضوابط کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے دو چالیس سال سے زائد عمر کے خدام کا نام پیش کیا گیا۔( حضور نے فرمایا) خدام الاحمدیہ ایک روحانی جماعت ہے لہذا اس سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ روحانی کی تقاضوں کو پورا کرے۔لیکن صدارت کے انتخاب میں جس بے پرواہی سے کام کیا گیا ہے اُس سے میں سمجھتا ہوں کہ خدام یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا صدر بھی محض ایک نمبر دار کی حیثیت رکھتا ہے۔میں نے اس دفعہ صدارتی انتخاب کی کارروائی کا جائزہ لیا تو مجھ پر یہ اثر پڑا کہ مختلف مجلسوں نے نام پیش کرتے ہوئے اِس روح کو مد نظر نہیں رکھا جس کے قیام کے لیے خدام کی تحریک جاری کی جی گئی تھی۔محض بڑے خاندان کا فرد ہونا نام تجویز کرنے کے لیے کافی سمجھا گیا ہے۔پس یہ دیکھ لیں کہ فلاں نو جوان مسیح موعود علیہ السلام کی نسل سے ہے اور اُس کا نام تجویز کر دیا حالانکہ دیکھنا