انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 187

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۸۷ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر سر نکال کر دیکھ لو۔آپ فرماتی ہیں اس طرح میری شکل نظر نہیں آتی تھی۔میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں میں سے فنونِ جنگ دیکھتی رہی حتی کہ آپ نے فرمایا عائشہ! کیا تم تھک گئی ہو؟ کے پس آپ لوگوں کو چاہیے کہ جہاں جہاں موقع ملے حکومت کے منشاء کے مطابق فنونِ جنگ سیکھنے کی کوشش کرو۔اگر پاکستان پر کبھی حملہ ہوا اور لڑائی ہوگئی تو جو لوگ فنونِ جنگ سے واقف ہونگے وہ اپنے ملک کی حفاظت کیلئے فوج کے ساتھ مل کر مارچ کر سکیں گے لیکن اگر تم فنونِ جنگ نہیں سیکھو گے تو کیا تم صرف نعرے ہی مارتے رہو گے؟ تم کس منہ سے اپنی اولاد کے سامنے اپنا چی سر اونچا رکھ سکو گے؟ تم کس منہ سے اپنے ہم وطنوں کے سامنے سر اونچا رکھ سکو گے ؟ تم کس طرح کی اپنی ماؤں کے سامنے سر اونچا رکھ سکو گے ؟ تم کس طرح ان کی دعائیں لو گے کہ بیٹا زندہ رہو۔تمہیں ان دعاؤں کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا بلکہ ماں کا اُس وقت یہ فرض ہوگا کہ وہ تمہیں کہے میرے سامنے سے دُور ہو جاؤ تم بزدل ہو تمہارا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔“ 66 (الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۶۱ ء ) پس ہمیں اپنے مرکز کے ساتھ رہ کر کئی قسم کی پابندیاں برداشت کرنا ہوں گی۔ہم اپنا نیا چی مرکز اس لئے بنا رہے ہیں تا ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھائیں ، خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسیع کریں۔نہ اس لئے کہ ہم خدا تعالیٰ سے اپنے تعلقات کو منقطع کر لیں۔ہم نے اپنے آپ کو منظم کر کے ظلم کا بدلہ لینا ہے۔دنیا اس ظلم کو بھول جائے تو بھول جائیمگر ہم اسے نہیں بھولیں گے اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ اس ظلم کا بدلہ نہ لے لیں۔لاکھوں مسلمانوں کو تلوار کے گھاٹ اُتارا گیا۔ہزاروں عورتوں کو اغوا کر لیا تھ گیا۔ہزاروں بچوں کو نیزے مار مار کر مار دیا گیا۔ہزاروں عورتوں کی عصمتوں کو لوٹا گیا۔اُن کی چوٹیاں کاٹی گئیں۔اُن کے پستانوں کو کاٹا گیا۔اُن کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر انہیں مارا گیا۔یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ جب تک کسی شریف انسان کے جسم میں خون کا ایک قطرہ تک بھی باقی ہے وہ ان مظالم کو بھلا نہیں سکتا۔کوئی بے حیا شخص ہی ہوگا جس کو یہ باتیں بھول جائیں مگر ایسا آدمی صفحہ ہستی پر رہنے کے قابل نہیں ہو سکتا۔یہ درست ہے کہ ہماری جماعت صلح پسند ہے اور ہم صلح کے لئے ہی پکاریں گے مگر دوسری طرف ہمیں اس ظلم کا بدلہ لینے کے لئے تیاریاں کرنا