انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 186

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۸۶ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر شخص اونچی مونچھیں رکھے گا میں اُس کی گردن اُڑا دوں گا۔اگر تم مونچھیں نیچی نہیں کرتے تو آؤ مقابلہ کرلو۔اس پر اُس نے تلوار کھینچ لی اور اس شخص نے بھی تلوار نکال لی۔اور کہا خان ! تمہارا تو حق ہے کہ تم میرے ساتھ لڑائی کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ لڑائی کروں گا لیکن اس میں ہمارے بیوی بچوں کا کیا قصور ہے۔نہ میرے بیوی بچوں کا کوئی قصور ہے نہ تمہارے بیوی بچوں کا کوئی قصور ہے۔اب اگر تم نے مجھے مار دیا یا میں نے تجھے مار دیا تو یہ بہت بڑا ظلم ہوگا ہمارے بیوی بچوں کی کون نگرانی کرے گا؟ میں پھر کہتا ہوں کہ میں ضرور لڑائی کروں گا لیکن پہلے تم بھی اپنے بیوی بچوں کو مار آؤ اور میں بھی اپنے بیوی بچوں کو مار آ تا ہوں۔پٹھان نے کہا یہ درست ہے۔چنانچہ وہ اپنے بیوی بچوں کو مارنے کے لئے گھر چلا گیا۔مگر دوسرا شخص وہیں ٹہلتا رہا۔تھوڑی دیر کے بعد پٹھان واپس آیا اور اُس نے کہا اُٹھو! میں اپنے بیوی بچوں کو مار آیا ہوں آؤ اور مجھ سے مقابلہ کر لو۔اس شخص نے کہا کیا تم اپنے بیوی بچوں کو مار آئے ہو؟ پٹھان نے کہا ہاں۔اس پر اُس شخص نے کہا اگر تم اپنے بیوی بچوں کو مار آئے ہو تو میں شکست مانتا ہوں اور اپنی مونچھیں نیچی کر لیتا ہوں۔اب دیکھو اس شخص نے عقل کی بات تو کر لی لیکن یہ فرد کا مقابلہ تھا۔قوموں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے حکومت کے منشاء کے مطابق فوجی فنون سیکھنے کی ضرورت کی ہوتی ہے اگر تم دوسری قوموں کے سامنے اپنا سر بلند رکھنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہوگا کہ تم جنگ کے فنون سیکھو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فنونِ جنگ سیکھنے کا اتنا شوق تھا کہ آپ صحابہ کے دو گروہ بنا کر اُن کی آپس میں تیراندازی کروایا کرتے تھے۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے صحابہ کو اکٹھا کیا اور ان کی دو پارٹیاں بنا دیں۔آپ نے چاہا کہ میں خود بھی ایک پارٹی میں شامل ہو جاؤں۔اس پر دوسری پارٹی نے کمانیں نیچی جھکا دیں اور کہا ہم اِس طرف تیر نہیں چلا سکتے جدھر آپ ہوں۔سے بہر حال اس سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قدر شوق تھا کہ آپ خود جنگ کی مشقیں کرواتے رہتے تھے حتی کہ بخاری میں ایک روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ مسجد نبوی میں بعض حبشیوں نے جنگی کرتب دکھائے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دروازے میں کھڑے ہو گئے اور حضرت عائشہ سے فرمایا میرے کندھے میں سے