انوارالعلوم (جلد 21) — Page 182
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۸۲ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر سکیں گے اور دوسرے لوگوں پر بھی اس بات کا اثر ہو گا کہ کس طرح یہ لوگ اپنے نئے مرکز کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔“ (الفضل ۱۴ / جولائی ۱۹۶۱ء)۔یہ بھی یادر ہے کہ جو لوگ آئندہ ربوہ آئیں وہ حتی الوسع ریل کے ذریعہ آئیں اور ریلی کے ذریعہ جائیں۔ریلوے حکام نے ہمارے ساتھ بہت اچھا تعاون کیا ہے اور ربوہ میں اُس کی وقت ریلوے سٹیشن بنایا ہے جب یہاں کوئی مکان نہیں تھا۔یہ عمارتیں وغیرہ جو اب بنی ہوئی ہے ہوئی ہیں یہ ہم نے چند دنوں میں بنائی ہیں اور یہ بھی محض چھپر ہیں۔ریلوے حکام نے نہایت ی فراخدلی سے یہ جانتے ہوئے کہ جہاں اس جماعت کا مرکز ہو گا ریل گھاٹے میں نہیں رہے گی کی یہاں اسٹیشن کھول دیا ہے اور آئندہ ان کا ارادہ اسے مستقل اور اہم سٹیشن بنانے کا ہے۔انہوں نے حکام بالا کی منظوری کے بغیر بامید منظوری یہ ٹیشن بنایا ہے اور اب انہیں دکھانا ہوگا کہ ہم نے یہاں سٹیشن کھولنے میں غلطی نہیں کی بلکہ اس میں پاکستان کا فائدہ تھا۔اگر جماعت کے دوست یہاں بار بار نہ آئیں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ریلوے کی آمدنی کم دکھائی جائے گی اور حکام بالا اعتراض کریں گے کہ محض خیالات پر بنیاد قائم کر کے یہاں سٹیشن کھول دیا گیا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم کسی اور ذریعہ سے سفر نہ کرو۔ضرورت کے وقت دوسرے ذرائع سے بھی سفر کیا جاسکتا ہے لیکن جہاں تک ممکن ہو ریلوے کے ذریعہ سفر کیا جائے۔میں نے خود اپنے سب گھر والوں کو ریل کے ذریعہ بھیجا ہے اور خود موٹر پر آیا ہوں کیونکہ اُس دن میری ایک دعوت تھی جو یو نیورسٹی کی طرف سے کی گئی تھی اور وہاں مجھے کئی دوسرے لوگوں سے ملنے کا موقع مل سکتا تھا۔میں اُس دعوت پر چلا گیا اور پھر موٹر کے ذریعہ یہاں آیا۔پس میرا یہ مطلب نہیں کہ خواہ کچھ بھی کی ہو آپ لوگ صرف ریلوے کے ذریعہ سفر کریں بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو دوست ریلوے کے ذریعہ سفر کریں۔میں نے تمام گھر والوں کو ریل کے ذریعہ یہاں بھیجا تھا گو موٹر کے ذریعہ آنے میں شائد تیسرا حصہ خرچ ہوتا۔میں نے یہی سوچا کہ فائدہ اسی میں ہے کہ میں انہیں ریل کے ذریعہ بھیجوں تا ریلوے کے وہ حکام جنہوں نے ہم سے تعاون کرتے ہوئے یہاں اسٹیشن کھولا ہے بدنام نہ ہوں۔ہمارا یہ بھی ارادہ ہے کہ سیشن کو اسی صورت پر ہی قائم نہ رکھا جائے بلکہ اسے بڑھایا جائے