انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xx of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page xx

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۵ تعارف کتب فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ که لعنت ہے ایسے نمازیوں پر جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض نمازیوں کی نماز اُن کے لئے لعنت کا موجب بھی ہو سکتی ہے۔نماز ، روزہ، زکوۃ، حج اور دوسری عبادات پر خوش نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے ذریعہ جو طاقت پیدا ہوتی ہے اُس کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے۔روحانی طاقتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندر ایک جذبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ دوسرے شخص کے اندر بھی وہی اخلاق فاضلہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اُس کے اندر پائے جاتے ہیں۔“ اسی طرح آپ نے لجنہ اماءاللہ کو تبلیغ کرنے کی طرف توجہ دلائی۔(۱۱) اسلام اور موجودہ مغربی نظریے مورخه ۲۱ / اگست ۱۹۴۹ ء کو جماعت احمدیہ کوئٹہ کے زیر اہتمام پارک ہاؤس کے احاطہ میں ایک شاندار جلسہ ہوا جس میں حضرت مصلح موعود نے اسلام اور موجودہ مغربی نظریے کے زیر عنوان ایک نہایت پر معارف تقریر فرمائی۔جماعت احمدیہ کوئٹہ کے افراد کے علاوہ چھ سو کے قریب غیر احمدی معززین بھی اس جلسہ میں شریک ہوئے۔اس تقریر میں آپ نے مغربی نظریوں پر اسلام کے نظریوں کی فوقیت مدلل طور پر ثابت کی اور فرمایا:۔اس زمانہ میں مغربی اقوام کے مختلف نظریات اسلام سے ٹکراتے ہیں جن میں سے بعض مذہبی ہیں اور بعض سیاسی اور اقتصادی۔لیکن کوئی ایک نظریہ بھی ایسا نہیں جس میں مغرب کو شکست فاش نہ ہوئی ہو۔مذہبی نظریوں میں سے سب سے بڑا تو حید کا نظریہ ہے۔عیسائیت نے جب ترقی کی تو حضرت عیسی علیہ السلام کو اُنہوں نے خدا اور خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا۔۔۔آج اگر عیسائیوں سے پوچھا جائے تو وہ صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہماری مراد صرف۔