انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 132

انوار العلوم جلد ۲۱ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر مکہ میں صرف چند گھر تھے اس لئے انہیں ایک دوسرے کے حالات معلوم کرنے کی طبعاً جستجو رہتی تھی اور بڑا بھاری واقعہ وہ اس بات کو سمجھتے تھے کہ فلاں قبیلہ یہاں سے گذرا ہے اور وہ یہ یہ چیزیں لے گیا اور یہ یہ چیزیں دے گیا ہے۔بیوی نے کہا اور تو کوئی واقعہ نہیں ہوا صرف ایک بڑھا آپ کے پیچھے آیا تھا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کا دل دھڑ کنے لگا کہ یہ بڑھا کہیں اُن کا حج باپ ہی نہ ہو۔اُنہوں نے کہا اُس بڑھے نے کوئی بات بھی کی تھی یا نہیں؟ اُس نے کہا اُس بڑھے نے آپ کے متعلق پوچھا تھا۔میں نے بتایا کہ آپ گھر پر موجود نہیں ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا کہ کیا تم نے اُس بڑھے کی کوئی خاطر تواضع بھی کی ؟ اُس نے کہا۔میں نے تو کوئی خاطر تواضع نہیں کی البتہ جاتے وقت وہ ایک پیغام آپ کو پہنچانے کے لئے دے گیا تی تھا۔اُس نے کہا تھا کہ اسماعیل سے کہہ دینا تمہاری چوکھٹ اچھی نہیں اسے بدل دو۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ سنتے ہی کہا۔بی بی ! میری طرف سے تم پر طلاق۔۱۵ اُس نے کہا اس کی کا کیا مطلب؟ حضرت اسماعیل نے کہا۔وہ بڈھا میرا باپ تھا جو دو ہزار میل سے چل کر آیا مگر تم سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ تم انہیں کہتیں تشریف رکھئے اور آرام کیجئے۔تمہارے اخلاق ایسے نہیں کہ میرے گھر میں رہنے کے قابل سمجھی جا سکو۔چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اُسے طلاق دے دی اور ایک اور شادی کر لی۔کچھ عرصہ کے بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے۔اتفاقاً اُس دن بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام باہر تھے آپ آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔اندر سے ایک عورت نے جواب دیا کہ کون صاحب ہیں؟ بیٹھے، تشریف رکھئے۔چنانچہ آپ اندر گئے۔اُس عورت نے آپ کی خدمت کی ، پیر دھلائے ، کھانے پینے کی چیزیں آپ کے سامنے رکھیں اور کہا مجھے سخت افسوس ہے کہ آپ بہت فاصلہ سے آئے مگر اسماعیل سے نہیں مل سکے۔آپ ٹھہرئیے اور ان کا انتظار کیجئے اِس عرصہ میں مجھ سے جو کچھ ہو سکتا ہے میں آپ کی خدمت کروں گی۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام ٹھہرے نہیں بلکہ واپس چلے گئے۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ اُن کی قوم کے افراد بہت پھیلے ہوئے تھے اور وہ ان کے ہاں ٹھہر جاتے تھے۔جاتے ہوئے اُنہوں نے کہا۔اسماعیل جب واپس آئے تو اُسے کہنا کہ فلاں طرف سے ایک آدمی آیا تھا اور اُس سے کہنا کہ تمہارے دروازے کی چوکھٹ اب