انوارالعلوم (جلد 21) — Page 115
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۱۵ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر ( فرموده ۱۵ را پریل ۱۹۴۹ء ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت جس میں الْحَمْدُ للهِ رَبِّ العلمین کا خصوصیت کے ساتھ تین بار تکرار فرمایا۔اس کے بعد فرمایا:۔یہ جلسہ تقریروں کا جلسہ نہیں یہ جلسہ اپنے اندر ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے ایسی تاریخی چی حیثیت جو مہینوں یا سالوں یا صدیوں تک نہیں جائے گی بلکہ بنی نوع انسان کی اس دنیا پر جو زندگی ہے اس کے خاتمہ تک جائے گی۔اس میں شامل ہونے والے لوگ ایک جلسہ میں شامل نہیں ہو رہے بلکہ روحانی لحاظ سے وہ ایک نئی دنیا، ایک نئی زمین اور ایک نئے آسمان کے بنانے میں شامل ہو رہے ہیں۔پس اس جلسہ کو تقریروں کا جلسہ مت سمجھو۔تقریریں ہوں یا نہ ہوں ، مختلف مضامین پر لیکچر سننے کا موقع ملے یا نہ ملے اس کا کوئی سوال نہیں جو اصل مقصد ہے وہ ہمارے سامنے رہنا چاہیے اور جو اصل مقصد ہے اُس کو ہمیں ہر چیز پر اہمیت دینی چاہیے۔میں اب قرآن کریم کی کچھ آیتیں پڑھوں گا اور آہستہ آہستہ کئی دفعہ دہراؤں گا۔پڑھے ہوئے اور ان پڑھ جس قدر دوست یہاں موجود ہیں وہ بھی میرا ساتھ دے سکتے ہیں اور انہیں ساتھ دینا چاہیے۔یعنی جب میں وہ آیتیں پڑھوں تو جماعت کے دوست کیا مرد اور کیا عورتیں ساتھ ساتھ ان آیتوں کو دُہراتے چلے جائیں۔اس موقع پر حضور نے ہدایت فرمائی کہ کوئی کارکن جا کر عورتوں کی جلسہ گاہ سے پوچھ لے کہ اُن کو آواز آ رہی ہے یا نہیں تا کہ وہ محروم نہ رہ جائیں۔پھر فرمایا ) عورتوں میں سے جو عورتیں ایسی ہیں کہ اُن پر ان ایام میں ایسی حالت ہے کہ وہ بلند آواز