انوارالعلوم (جلد 21) — Page 116
انوار العلوم جلد ۲۱ 117 ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر سے قرآن کریم نہیں پڑھ سکتیں اُن کو چاہیے کہ وہ دل میں ان آیتوں کو دُہراتی چلی جائیں اور جن عورتوں کے لئے ان ایام میں قرآن کریم پڑھنا جائز ہے وہ زبان سے بھی ان آیتوں کو دُہرائیں۔بہر حال جن عورتوں کے لئے ان ایام میں زبان سے پڑھنا جائز نہیں وہ زبان سے پڑھنے کی بجائے صرف دل میں ان آیتوں کو دُہراتی رہیں کیونکہ شریعت نے اپنے حکم کے مطابق جہاں مخصوص ایام میں تلاوتِ قرآن کریم سے عورتوں کو روکا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ وہ دل میں بھی ایسے خیالات نہ لائیں یا دل میں بھی نہ دُہرا ئیں بلکہ صرف اتنا حکم ہے کہ زبان سے نہ ڈہرا ئیں بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک صرف قرآن کریم کو ہاتھ لگا نا منع ہے مگر احتیاط یہی ہے کہ کثرت سے جس بات پر مسلمانوں کا عمل رہا ہے اُسی پر عمل کیا جائے۔پس بجائے زبان سے دُہرانے کے وہ دل میں ان آیتوں کو دُہراتی چلی جائیں۔میں نے بتایا ہے کہ میں کئی دفعہ آیات کو پڑھوں گا ممکن ہے میں پہلی دفعہ جلدی پڑھوں تا کہ ان کا مفہوم آسانی سے سمجھ میں آسکے۔اگر لفظوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہو اور انسان مضمون سے پہلے واقف نہ ہو تو آہستگی سے پڑھنے کے نتیجہ میں مضمون بجائے اچھا سمجھ آنے کے کم سمجھ آتا ہے مگر جو شخص اس کے ترجمہ سے واقف ہوتا اور مضمون سے آگاہ ہوتا ہے اُس کا دلی جوش اور جذ بہ بعض دفعہ اُسے جلدی پڑھنے پر مجبور کرتا ہے اس لئے پہلی دفعہ کی تلاوت میں اپنے لئے مخصوص کروں گا۔یعنی میں اس طرح پڑھوں گا جس طرح میرا اپنا دل چاہتا ہے۔اس کے بعد جب میں تلاوت کروں گا تو اِس امر کو مد نظر رکھوں گا کہ پڑھا ہوا اور ان پڑھ، عالم اور جاہل، بڑی عمر کا اور چھوٹی عمر کا ہر شخص لفظاً لفظاً اگر وہ چاہے اور اگر اُس کے دل میں ارادہ اور ہمت ہو تو میرے پیچھے پیچھے چل سکے اور ہر لفظ کو دُہرا سکے۔ان تمہیدی الفاظ کے بعد حضور نے نہایت رقت آمیز رنگ میں قرآن کریم کی وہ دعائیں بلند آواز سے پڑھنا شروع کیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ اور۔حضرت اسماعیل علیہما السلام کو وادی مکہ میں چھوڑے وقت اللہ تعالیٰ کے حضور کی تھیں۔جماعت کی کے تمام دوست کیا مرد اور کیا عورتیں سب کے سب حضور کے ساتھ ساتھ ان دعاؤں کو دُہراتے ہی چلے گئے۔یہ دعائیں جس طرح بار بار حضور نے پڑھیں اُسی طرح ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔