انوارالعلوم (جلد 21) — Page 39
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۹ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ لاہور ۱۹۴۸ء دیں بنائی گئیں؟ پھر ایران کی نقل میں افغانستان میں مسجدیں بنائی گئیں؟ پھر افغانستان کی نقل میں پنجاب میں مسجدیں بنائی گئیں؟ پھر پنجاب کی نقل میں دہلی ، آگرہ اور کانپور میں مسجدیں بنائی گئیں۔غرض وہ مسجد بیسیوں نفلوں کی نقل تھی اس کے غسلخانے کا مسلمانوں میں اتنا احترام تھا کہ جب اُس کی ایک دیوار گرائی گئی تو سارے ہندوستان میں ایک شور مچ گیا اور مسلمانوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مسجد کی بے حرمتی کی گئی ہے۔جب ہزار نفلوں کی نقل نہیں بلکہ اس نقل کے غسالخانہ کی ایک دیوار با برکت ہو سکتی ہے تو قادیان کے مرکز کی جو نقل ہوگا وہ کیوں بابرکت نہیں ہو گا۔آخر مسجد بھی تو نقل ہے خانہ کعبہ کی۔مگر کیا کوئی شخص جرات کر سکتا ہے کہ اس کی بے حرمتی کی کرے اس لئے کہ وہ اصل مسجد نہیں۔اسی طرح بے شک ربوہ قادیان کی نقل ہوگا مگر جو فعال کی نقل بنائی جائے گی عام نقلیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں بلکہ میں کہتا ہوں اگر ویسٹ افریقہ میں بھی کوئی مرکز بنایا جائے تو وہ جگہ بھی بابرکت ہو جائے گی گجا وہ جگہ جو قادیان کے لوگوں کو پناہ دینے کے لئے بنائی جائے وہ بابرکت نہ ہو وہ تو یقیناً با برکت ہوگی اور اس کے بابرکت ہونے میں کوئی محبہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب شبہات قیاسات سے پیدا ہوئے ہیں جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا مقصد کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ تنظیم کے لئے مرکز کی کیسی شدید ضرورت ہوا کرتی ہے۔مجھے تو حیرت آتی ہے کہ اس قسم کے شبہات پیدا کس طرح ہو جاتے ہیں۔جب شہد تیار ہو جاتا ہے اور لوگ اس شہر کو لینے کے لئے جاتے ہیں تو ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جب کوئی شہد لینے کے لئے چھتے کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے تو فوراً ایک مکھی جو کوئین (QUEEN) ہوتی ہے اس کی ایک بیٹی اور دوسری مکھیوں کا ایک جھنڈ اُڑ کر دوسری جگہ چلا جاتا ہے اور نئے چھتے کی تلاش کرتا ہے اور پیشتر اس کے کہ شہد لینے والا شہد حاصل کرے شہد کی مکھیاں دوسری جگہ پر نیا چھتہ تیار کرنا شروع کی کر دیتی ہیں باوجود اس کے کہ شہد کی مکھیوں کو شہر کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ، باوجود اس کے کہ وہ ان کے کسی کام نہیں آتا بلکہ دوسرا شخص شہد لے جاتا ہے صرف اس لئے کہ یہ کام ان کے سپر د ہوا ہے وہ فوراً وہاں سے اُڑ جاتی ہیں اور دوسرا چھتہ تیار کر لیتی ہیں کیا انسان کے اندر لکھی جتنی بھی عقل نہیں کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اعتراض کرنے شروع کر دیتا ہے۔درحقیقت یہ تو ہماری کوتاہی