انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 554

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۵۴ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطا۔(اس موقع پر حضور نے اپنے پاؤں کو زمین پر رگڑا اور بڑے پر جلال انداز میں فرمایا ) اب کی تمہیں مرکز کی کامل طور پر لفظاً لفظاً ، قد ما قد ما، شبر أشبراً اطاعت کرنی پڑے گی اور اگر اس بارہ میں کسی قسم کی غفلت کی گئی تو میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایسے شخص کے خلاف جماعتی طور پر شدید ترین کارروائی کی جائے گی۔تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ کے بعد پھر مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کیا ہے اور اس اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے ہماری تمام کوششیں وقف رہنی چاہئیں۔تم مت خیال کرو کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جو احمدیت کے رستہ میں روک بن سکتا ہے یا تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جس کی وجہ سے احمدیت کو مددمل رہی ہے۔نہ احمدیت کے رستہ میں کوئی شخص روک بن سکتا ہے اور نہ حقیقی طور پر کسی کی مدد کے ذریعہ احمدیت ترقی کر رہی ہے۔جب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہوئے تو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ یہ بڑا بولنے والا انسان تھا اب یہ جماعت گئی۔مگر جماعت آگے سے بھی بڑھ گئی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے تو مولویوں نے کہا اب یہ سلسلہ ختم ہو گیا مگر جماعت آگے سے بھی بڑھ گئی۔پھر لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اصل میں تمام کام نورالدین کا تھا وہی مرزا صاحب کو سکھا یا کرتا تھا اب اس کی وفات پر یہ جماعت ختم ہو جائے گی لیکن حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے اور جماعت نے پہلے سے بھی زیادہ ترقی کرنی شروع کر دی۔پھر پیغامیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ایک چھپیس سال کا لڑکا خلیفہ بن گیا ہے اب یہ جماعت کو تباہ کر دے گا۔مگر آج کی ۳۶ سال گزر چکے ہیں اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ جماعت تباہ نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے بہت زیادہ ترقی کر چکی ہے۔اس وقت جتنے ممالک میں ہمارے مبلغین موجود ہیں ان ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک بھی احمدی نہیں تھا اور کوئی بھی آپ کے نام کو نہیں جانتا تھا۔نہ سوڈان والے آپ کو جانتے تھے ، نہ انڈونیشیا والے آپ کو جانتے تھے، نہ جرمنی والے آپ کو جانتے تھے ، نہ دوسرے ممالک میں کوئی احمدی موجود تھا ان تمام ممالک میں میرے زمانہ میں ہی احمدیت کا نام پہنچا ہے۔پس جب تک خدا کا ہاتھ ہمارے ساتھ ہے کوئی فرد ہمارے راستہ میں روک نہیں بن سکتا۔بلکہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہ