انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 555

انوار العلوم جلد ۲۱ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب ہم کتنی بھی عزت کریں ہمیں ماننا پڑے گا کہ جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہیں بنایا ، ہمیں ماننا پڑے گا کہ جماعت کو خلیفہ اول نے نہیں بنایا ، ہمیں ماننا پڑے گا کہ اس کی جماعت کو خلیفہ ثانی نے بھی نہیں بنایا۔اسی طرح کوئی شخص خواہ کتنی بھی پوزیشن رکھتا ہوا گر وہ کی احمدیت کے مقابلہ میں کھڑا ہوا تو وہ ایک مکھی کی طرح اس سلسلہ میں سے نکال دیا جائے گا اور وہ کچھ بھی اس سلسلہ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔اور جب تک یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر چلتا چلا جائے گا اسے زیادہ سے زیادہ شان وشوکت حاصل ہوتی چلی جائے گی لیکن جس دن خدا نخواستہ یہ سلسلہ اس راستہ سے ہٹ گیا ( اور ابھی یہ بہت دور کی بات ہے ) تو پھر تم اُٹھاؤ گے تو یہ نہیں اُٹھے گا اور تم روکوں کو دُور کرو گے تو وہ دور نہیں ہوں گی۔پھر دفتر کی بدانتظامی کی وجہ سے جو مبلغین پہلے بیرونی ممالک سے آتے تھے وہ چھ چھ مہینے، سال سال، دو دو سال تک فارغ بیٹھے رہتے تھے اور ان سے کوئی کام نہیں لیا جاتا تھا۔اب میں نے ہدایت دے دی ہے کہ مبلغین کو با قاعدہ رخصت دو اور پھر رخصت سے واپسی آنے پر ریفریشر کورس انہیں دیا جائے اور جن کے لئے ضروری نہ ہو انہیں دفاتر میں کام پر لگا یا کچھ جائے۔اس طرح ان کی معلومات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ان کے ذریعہ سلسلہ بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔مثلاً اگر ایسٹ افریقہ میں کام کرنے والے مبلغ کو ویسٹ افریقہ کی ڈاک کے کام پر لگا دیا جائے یا ویسٹ افریقہ کے مبلغ کو انڈونیشیا کی ڈاک کا کام سپر د کر دیا جائے اور وہ ان کی فائلیں وغیرہ دیکھتے رہیں اور مبلغین سے خط و کتابت کرتے رہیں تو تھوڑے عرصہ میں ہی وہ اُس ملک کے حالات سے باخبر ہو جائیں گے۔اور پھر اگر اس مبلغ کو اسی ملک بھجوا دیا جائے تو تھی وہاں وہ آسانی سے کام کر سکے گا۔بہر حال وقت کو ضائع کرنا نا پسندیدہ امر ہے۔اس سے دماغ کند ہو جاتا ہے اور انسان کی طاقتیں رائیگاں چلی جاتی ہیں۔میں نے اب حکم دے دیا ہے کہ اگر نظارت کسی مبلغ کو فارغ رکھے گی اور اس سے کام نہیں لے گی تو اسے سزا دی جائیگی۔اس کے بعد میں طالب علموں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں درسی کتب کے علاوہ مختلف علمی کتابوں کا بھی مطالعہ کرتے رہنا چاہئے اور اس طرح اپنی معلومات کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنا چاہئے۔تمہارے اُستاد تمہیں یہاں قرآن کریم پڑھاتے ہیں مگر تمہیں یہ بھی معلوم ہونا