انوارالعلوم (جلد 21) — Page 543
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۴۳ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطا۔آ کر ایک دن وہ باورچی خانہ چلا گیا۔اس کی بیوی روٹیاں پکا رہی تھی اس نے جوتی اپنے ہاتھ میں پکڑ لی اور کہنے لگا کمبخت ! تو روٹی تو ہاتھ سے پکاتی ہے تیری کہنیاں کیوں ملتی ہیں اور اسے ز دو کوب کرنا شروع کر دیا۔لڑکی کہنے لگی میں آپ کی لونڈی ہوں آپ جتنا چاہیں مجھے مارلیں مگر اس وقت آپ اپنی طبیعت کو کیوں خراب کرتے ہیں کھانے کا وقت قریب ہے آپ پہلے کھانا کھا لیں اور جتنا چاہیں مجھے مار لیں۔میں آخر یہیں ہوں کہیں چلی تو نہیں جاؤں گی۔اس کی نے بھی سمجھا بات درست ہے۔چنانچہ اُس نے بیوی کو چھوڑ دیا۔جب وہ کھانا کھانے بیٹھا تو کی ابھی اس نے ایک دو لقمے ہی منہ میں ڈالے تھے کہ بیوی نے اُس بڑھے کی ڈاڑھی پکڑ لی اور کی کہنے لگی کمبخت ! کھانا تو تو منہ سے کھاتا ہے تیری ڈاڑھی کیوں ہلتی ہے۔پس مخالفت کا بہانہ بنانا کوئی مشکل چیز نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے تو لوگوں نے اور بہانہ بنالیا، حضرت عیسی علیہ السلام آئے تو لوگوں نے اور بہانہ بنالیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا تلوار چلاؤ تو لوگوں نے کہہ دیا کہ یہ نبی کیسا ہے یہ تو لڑائی کی تعلیم دیتا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام آئے تو اُنہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تو اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دے۔اس پر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ بھی کوئی تعلیم ہے کیا اس طرح دنیا میں گزارہ ہو سکتا ہے؟ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ نے فرمایا کہ موقع محل کے مطابق کبھی سختی کرو اور کبھی نرمی۔اس پر لوگوں نے کہا یہ تو دونوں مذہبوں سے گیا یہ نہ موسیٰ کے راستہ پر ہے اور نہ عیسی کے راستہ پر۔اس کی تعلیم ہم کیوں مانیں؟ غرض لوگ ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا لینے کے عادی ہوتے ہیں۔پس اگر ہماری طرف سے کوئی جدید چیز پیش کی جاتی تب بھی لوگوں کی مخالفت ضرور ہوتی مگر آجکل جو اعتراض شدت سے کیا جاتا ہے وہ یہی ہے کہ جب حضرت مرزا صاحب کوئی نئی چیز نہیں لائے تو ہم آپ پر کیوں ایمان لائیں؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض جاہل یہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے نیا کلمہ بنالیا ہے یا ان کا نیا قرآن ہے مگر تعلیم یافتہ طبقہ جانتا ہے کہ یہ ساری باتیں جھوٹی ہیں۔وہ جانتا ہے کہ ہم ختم نبوت کا انکار نہیں کرتے ، وہ جانتا ہے کہ ہم مرزا صاحب