انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 544

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۴۴ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم سمجھتے ہیں ، وہ جانتا ہے کہ تبلیغ اسلام اس وقت صرف ہم لوگ ہی کر رہے ہیں ، وہ جانتا ہے کہ معترض پاگل ہیں وہ جھوٹ بولتے اور لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔مگر وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ جب تم قرآن کو ہی پیش کرتے ہو ، جب تم حدیثوں کو ہی منواتے ہو ، جب تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر ہی عمل کرتے ہو تو ہم مرزا صاحب پر کیوں ایمان لائیں؟ اور در حقیقت یہی وہ اعتراض ہے جس کو اس زمانہ میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ مخالف لوگ تو جو کچھ کہتے ہیں وہ محض جھوٹ ہوتا ہے اور تعلیم یافتہ طبقہ اس حقیقت کو خوب سمجھتا ہے۔مخالف اگر ہمارے خلاف شور مچاتے ہیں تو محض اس لئے کہ اس مخالفت کے نتیجہ میں اُن کا اعزاز بڑھ جاتا ہے اور لوگ اُن کی تعریفیں کرنے لگ جاتے ہیں ورنہ جس دن ہے احمدیت کو کامیابی حاصل ہوئی تم دیکھو گے کہ اُس دن وہ بھی ادھر آجائیں گے۔میں ابھی بچہ تھا کہ میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ کبڈی کا میچ ہو رہا ہے۔جس میں ایک طرف احمدی ہیں اور دوسری طرف غیر احمدی۔غیر احمدیوں میں مولوی محمد حسین بٹالوی بھی مج شامل ہیں۔احمدی جب کبڈی کے لئے جاتے ہیں تو غیر احمد یوں کو ہاتھ لگا کر آ جاتے ہیں اور وہ سب مرتے چلے جاتے ہیں۔یعنی جس کو ہاتھ لگ جاتا ہے اُسے بٹھا دیا جاتا ہے یہاں تک ہوتے ہوتے صرف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پیچھے رہ گئے۔جب انہوں نے دیکھا کہ اب میں ہی اکیلا رہ گیا ہوں اور میرے سارے ساتھی بیٹھ چکے ہیں تو جس طرح بچے بعض دفعہ دیوار کیسا تھ منہ لگا کر آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیتے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی قریب کی ایک جی دیوار کے ساتھ منہ لگا کر ادھر بڑھنا شروع کیا۔جب وہ لکیر پر پہنچے تو کہنے لگے اب تو سارے ہی ادھر آگئے ہیں لو میں بھی آجاتا ہوں اور یہ کہہ کر وہ بھی ہماری طرف آ گئے۔اس رویا میں مخالفین کی حالت کا یہی نقشہ کھینچا گیا ہے۔پہلے وہ مخالفت کرتے ہیں مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ سب لوگ مانتے چلے جا رہے ہیں تو وہ بھی آکر شامل ہو جاتے ہیں۔بہر حال وہ وقت جو اس وقت ہمیں پیش آ رہی ہے پہلے زمانہ میں مسیحیوں کو بھی پیش آئی تھی۔حضرت مسیح آئے اور اُنہوں نے کہا یہ مت سمجھو کہ میں تو رات یا نبیوں کے صحیفوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔اس پر یہودی مفکرین نے یہ