انوارالعلوم (جلد 21) — Page 484
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۸۴ اسلام اور ملکیت زمین هذه عامة لمن جاء من بعدهم فقد صار هذا الفئ بين هولاء جميعا فكيف نقسمه لهؤلاء و ندع من تخلف بعدهم بغير قسم فاجمع على تركه وجمع خراجه انا یعنی محمد بن اسحاق نے امام زہری سے روایت کی ہے کہ جب سواد عراق فتح ہوا تو حضرت عمرؓ نے لوگوں سے اس کے متعلق مشورہ کیا۔اُن میں سے اکثر کی رائے یہ تھی کہ اس کو تقسیم کر دیا جائے اور بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ شدت سے اس بات پر مصر تھے کہ یہ ضرور تقسیم ہونا چاہیے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ اس کو چھوڑ دیا جائے اور فی الحال تقسیم نہ کیا جائے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب ان لوگوں کی مخالفت دیکھتے تھے تو بے اختیار اللہ تعالیٰ سے یوں دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! بلال اور اُس کے ساتھیوں کے اعتراض سے مجھے بچا اور ان کا جواب مجھے خود سمجھا۔یہ بحث دو تین دن تک یا اس سے کم و بیش جاری رہی۔آخری دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک دلیل مل گئی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ اپنے رسول کو عطا فرمائے ایسی چیزیں جن پر تمہارے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑے بلکہ اُس نے خود ہی اپنے فضل سے اپنے رسول کو جس چیز پر چاہا قبضہ دے دیا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔اس آیت کی تلاوت کے بعد حضرت عمرؓ نے فرمایا یہاں تک تو یہودیوں کے بنو نضیر قبیلہ کے متعلق ذکر تھا اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اگلی کی آیتوں میں تمام ملکوں کے متعلق احکام جاری فرمائے ہیں اور فرمایا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنے کی رسول کو بستیوں اور اُن کے باشندوں میں سے بخشا وہ اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کے رسول کا ہے اور قریبیوں کا ہے اور یتامیٰ کا ہے اور مساکین کا ہے اور مسافروں کا ہے تا کہ یہ مال تم میں سے امیروں کے درمیان چکر کھانے والا نہ بن جائے۔اور رسول اس مال میں سے تم کو جو کچھ دے وہ لے لو اور جس بات سے رو کے اُس سے رُک جاؤ اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ اللہ سزا دینے میں سخت بھی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے کہ یہ مال مہاجر غریبوں کے لئے ہے جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور اپنے مالوں سے محروم کئے گئے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضاء کی جستجو میں رہتے ہیں اور اللہ اور اُس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی سچے لوگ ہیں۔اتنی ہی آیتیں پڑھنے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دیکھو! پھر اللہ تعالیٰ نے اسی پر بس نہیں