انوارالعلوم (جلد 21) — Page 401
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۰۱ اسلام اور ملکیت زمین قرآن کریم میں بیان ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ نحل میں فرماتا ہے۔واللهُ فَضَّلَ بَعْضُكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ، فَمَا الَّذِينَ فَضْلُوا بِرَادِي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءِ افَبِنِعْمَةِ اللهِ يَجْحَدُونَ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے پس وہ جن کو دوسروں پر رزق میں فضیلت حاصل ہے وہ اپنے غلاموں کو اس طرح اپنے مال کا مالک نہیں بناتے کہ وہ غلام اُن کے ساتھ ملکیت میں برابر کے شریک ہو جائیں۔پھر کیا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا جان بوجھ کر انکار کرتے ہیں؟ یعنی جو لوگ یہ تعلیم پھیلاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی بعض مخلوق فرشتے ، جن یا بت یا انسان خدائی طاقتیں رکھتے ہیں اور جب اعتراض کیا جائے تو یہ جواب دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طاقتیں ان کے سپرد کر دی ہیں ہم اُن سے یہ کہتے ہیں کہ کیا کبھی تم نے بھی ایسا کیا ہے کہ اپنے مالوں میں اپنے غلاموں کو برابر کا شریک کر لو؟ اگر تم نے کبھی ایسا نہیں کیا تو تم خدا تعالیٰ کے متعلق یہ کیونکر خیال کرتے ہو کہ وہ اپنی مملوکہ اشیاء میں دوسروں کو برابر کا شریک کر لے گا۔اس قسم کا خیال تو تبھی آسکتا ہے جبکہ انسان دل میں یہ سمجھتا ہو کہ اصل میں یہ دُنیا خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ نہیں کچھ دوسری ہستیوں کا بھی اس کے پیدا کرنے میں دخل ہے اور اس لئے وہ اس کی مالک ہیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت کبھی کسی دوسرے کو نہیں دیتا۔اصل ملکیت ہر چیز کی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے دوسروں کی طرف ایک محدو دملکیت منتقل کی جاتی ہے۔خلاصہ یہ کہ اسلام کے نزدیک تمام مخلوقات کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہ ملکیت اُس کو بوجہ مخلوقات کا خالق ہونے کے حاصل ہوئی۔جبر یا ورثہ سے نہیں ملی یعنی یہ ملکیت اس کی خالص اور منصفانہ ہے۔اس میں کسی اور کی ملکیت کا حق غصب نہیں کیا گیا نہ کسی سے حق مستعار لیا گیا ہے۔ہاں آگے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو بہت حد تک زمین اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزوں کی ملکیت بخش دی ہے اور جیسا کہ دوسری آیات سے پتہ لگتا ہے ایک حد تک زمین سے باہر کی اشیاء پر بھی اس کو فائدہ اُٹھانے کا حق بخشا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما في السَّمَوتِ وَ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ، اِنَّ فِي ذَلِكَ لانت لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ " یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمانوں میں اور زمین میں جو ط