انوارالعلوم (جلد 21) — Page 400
انوار العلوم جلد ۲۱ اسلام اور ملکیت زمین میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے بنایا گیا ہے۔گو یا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے زمین اور اُس کے ساتھ کی متعلقہ چیزوں کو خدائی قانون کے مطابق فائدہ اُٹھانے کے لئے انسان کو بحیثیت مجموعی بخش دیا ہے۔اسلام کے مختلف احکام اسی مسئلہ کے گرد چکر لگاتے ہیں۔مثلاً جب جانور ذبح کیا جاتا ہے تو بشیر اللہ کہی جاتی ہے۔جس میں اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ یہ جانور اصل میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اُس کی اجازت سے میں اِسے ذبح کر رہا ہوں۔ہر چیز کے کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھی جاتی ہے۔اس کے بھی یہی معنی ہوتے ہیں کہ میں خدا تعالیٰ کی اجازت سے اس کھانے کو استعمال کرنے لگا ہوں۔یہ کھانا اصل میں اللہ تعالیٰ کا ہے۔اور کھانے کے بعد می الحمدلله کہی جاتی ہے۔یہ جملہ ایسا ہی ہے جیسے انسان کو کوئی تحفہ دیتا ہے تو اُس کے مقابلہ میں جَزَاكُمُ الله کہا جاتا ہے۔الحمد لله کے معنی ہیں سب تعریف اللہ ہی کی ہے یعنی یہ تحفہ بھی خدا نے ہی دیا ہے اور باقی سب چیزیں جو مجھے ملتی ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتی ہیں۔اسی طرح جب جانور پر سواری کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ سُبحن الذي سخر لنا هذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنین کے یعنی یہ جانور بھی اصل میں خدا کا ہے اور اُسی نے مجھے دیا ہے تاکہ میں اس سے فائدہ اُٹھاؤں تسخیر کے ایک معنی عربی زبان میں یہ بھی ہوتے ہیں کہ کسی کو مفت فائدہ اُٹھانے کے لئے کوئی چیز دینا نے پس اس حکم کے معنی یہی ہیں کہ انسان جب کسی جانور سے فائدہ اُٹھائے تو اقرار کرے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور یہ عارضی طور پر مجھے فائدہ اُٹھانے کے لئے دیا گیا ہے۔غرض مختلف احکام شریعت کو اوپر بیان کئے ہوئے مضمون کی تشریح کے طور پر اسلام نے بیان کیا ہے اور بار بار ایک مسلمان کے ذہن میں یہ بات راسخ کی گئی ہے کہ ملکیت اشیاء اللہ تعالیٰ کی ہے اس لئے کہ اُس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اور جو پیدا کرتا ہے وہی چیز کا مالک ہوتا ہے دوسرا مالک نہیں ہوتا۔دوسرے کی ملکیت مستعار ہوگی یعنی مالک کے دیئے ہوئے حقوق کے مطابق اُس کو حقوق حاصل ہو نگے اُس سے زیادہ نہیں۔اب رہا یہ سوال کہ کیا خدا تعالیٰ کلّی طور پر کسی کو ملکیت دے دیتا ہے؟ تو اس کا جواب بھی