انوارالعلوم (جلد 21) — Page 399
انوار العلوم جلد ۲۱ پہلا باب ۳۹۹ اسلام اور ملکیت زمین اسلام نے ملکیت اشیاء کے متعلق کیا قانون مقرر کئے ہیں؟ دنیا میں بہت سے جھگڑے اس بناء پر پیدا ہوتے ہیں کہ ملکیت اشیاء کس کی ہے؟ بعض ملکیت حکومت کا حق سمجھتے ہیں ، بعض قوم کا ، بعض خاندان کا اور بعض فرد کا۔اور پھر ملکیت کے بعد تصرف اور کسی چیز سے نفع حاصل کرنے کے متعلق بھی وہ اختلاف رکھتے ہیں۔بعض مقبوضہ چیزوں سے نفع اٹھانے کے غیر محدود حق کو تسلیم کرتے ہیں اور بعض لوگ محدود حق کو تسلیم کرتے ہیں۔اسلام نے اس بارہ میں جو تعلیم دی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔الله الذي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ 2 یعنی اللہ ہی ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے ان سب کو چھ زمانوں میں پیدا کیا اور پھر وہ عرش پر قائم ہو گیا۔دوسری جگہ اسی مضمون کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے اِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ ہے۔السموت والارض في ستَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَيرُ الأَمْرَه یقیناً تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے کہ آسمانوں اور زمین کو چھ زمانوں میں پیدا کیا۔پھر تمام مخلوق کا انتظام کرتے ہوئے وہ عرش پر قائم ہو گیا۔یہ مضمون قرآن کریم میں مختلف جگہ پر آیا مثلاً سورۃ لقمان میں ، سورہ زخرف میں ، سورہ زمر میں ، سورۃ ہود میں ، سورہ حدید میں اور مختلف اور سورتوں میں۔ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ زمین اور آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب اللہ ہی کا پیدا کیا ہوا ہے اس لئے اُسی کو حق ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے متعلق کوئی قانون بنائے اور اس مخلوق کا نظام چلانے کے متعلق کوئی اصول تجویز کرے۔اس مضمون کی مزید تشریح کیلئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ک یعنی الله تعالى ہی ہے کہ جس نے زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ تم سب کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے۔اس آیت