انوارالعلوم (جلد 21) — Page 384
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۸۴ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی کرنے کی کوشش کرو۔اور وہ کارکن جو چندہ دے چکے ہیں انہیں میں کہتا ہوں کہ تمہارا کام ہے کہ غافل مؤمنوں کو بیدار کرو۔دفتر سے اپنی جماعت کے وعدوں کی نقول منگوا ؤ اور لوگوں کے پاس جاؤ اور اُنہیں ادائیگی کی طرف متوجہ کرو۔یاد رکھو نا د ہندوں میں سے بعض غافل مؤمن ہیں اور بعض منافق۔منافق قادیان پر سب سے زیادہ آنسو بہاتا ہے لیکن تم دیکھو گے قادیان کا چندہ اُس کے ذمہ ہوگا اور غافل مومن کبھی مخلصوں کی آواز پر جاگ پڑتا ہے اور کبھی منافقوں کی آواز پر سو جاتا ہے اُس کو جگانا ہمارا فرض ہے اور اُس کا کوشش کر کے جاگنا خود اُس کا فرض ہے سوا گرتم مخلص ہو تو کمزوروں کو جگا کر اُن سے رقم وصول کرو اور اگر تم سست ہو تو استغفار کر کے اپنی غلطی کا ازالہ کرو۔وقف جائداد اور وقف آمد کی تحریکیں ایک بھی ہیں اور الگ الگ بھی ہیں۔جن لوگوں نے کی جائدادیں وقف کی ہوئی تھیں انہیں لکھا گیا تھا کہ وہ اپنی جائداد کی قیمت کا ایک فیصدی دیں لیکن چونکہ وہ نازک موقع تھا اور روپیہ کی فور ضرورت تھی اس لئے ہم نے کہا کہ دوسرے لوگ جن کے پاس جائدادیں نہیں وہ بھی آئیں اور اپنی ایک ماہ کی آمد دے کر اس چندہ میں حصہ لیں۔جس شخص نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے خواہ وقف جائداد کے لحاظ سے خواہ وقف آمد کے لحاظ سے وہ اس تحریک کا مخاطب نہیں لیکن جس نے چندہ نہیں دیا اُس کے لئے چندہ کا ادا کرنا ضروری ہے۔(اس کے بعد حضور نے فرمایا :) وہ لوگ جنہوں نے چندہ حفاظت مرکز دے دیا ہے وہ کھڑے ہو جائیں (اس پر وہ دوست جنہوں نے چندہ حفاظت مرکز دے دیا تھا کھڑے ہو گئے اس کے بعد حضور نے فرمایا ) اب جنہوں نے یہ چندہ ادا نہیں کیا اُن سے میں کہتا ہوں کہ اگر ان دوستوں نے چندہ دے دیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ تم یہ چندہ نہیں دیتے۔میں جانتا ہوں کہ جو لوگ بیٹھے رہتے ہیں اُن میں سے ایک ایسی تعداد بھی ہے جو مشرقی پنجاب سے آئی ہے اور وہ اب غربت کی حالت میں ہیں لیکن میں اُن سے کہتا ہوں کہ اگر وہ چندہ ادا نہیں کر سکتے تو اپنا کھاتہ صاف کرا دیں اور دفتر کو اپنی ذمہ داری کی اطلاع دے دیں۔اور جو ان کے سوا ہیں میں اُن سے کہتا ہوں کہ آخر اس غفلت