انوارالعلوم (جلد 21) — Page 381
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۸۱ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی لیکن قادیان سے اُن کی محبت کا یہ حال ہے کہ اُس کی حفاظت کے لئے چندہ کی تحریک کی گئی تو کی بعض نے وعدہ بھی کیا لیکن وہ وعدہ اب تک پورا نہیں کیا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اب اس چندہ کی کیا ضرورت ہے دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتے ہیں کہ مریض تو مر چکا ہے اب علاج کی کیا ضرورت ہے۔ایک طرف تو وہ کہتے ہیں کہ قادیان ہمیں واپس کب ملے گا اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ قادیان کا کام ختم ہو چکا ہے۔جب قادیان اُن کے نزدیک ختم ہو چکا ہے تو وہ واپس کس طرح مل سکتا ہے لیکن اگر وہ مریض ہے تو پھر اس کی کے علاج کی کس نے کوشش کرنی ہے۔آخر قادیان ہمارا ہے اور اس کے علاج کی ہمیں ہی کی کوشش کرنی پڑے گی غیر تو ایسا نہیں کرے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ی چندہ ادا کر چکے ہیں مثلاً اُن میں سے ایک میں ہی ہوں۔میں نے قادیان میں ہی یہ چندہ ادا کر دیا تھا لیکن نصف کے قریب لوگ ایسے تھے جنہوں نے اس مد میں چندہ لکھوایا تو تھا لیکن یا تو چندہ ادا ہی نہیں کیا یا اُس کا برائے نام ایک حصہ ادا کیا ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے شروع کی سے ہی کانوں میں سکہ ڈال رکھا ہے۔وہ کہتے ہیں ہم نے اچھا کیا کہ چندہ نہ دیا کیونکہ قادیانی نے ہمارے ہاتھ سے چلے ہی جانا تھا۔لیکن کیا کسی کا بچہ مر جائے تو وہ یہ کہا کرتا ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ میں نے علاج نہیں کیا تھا۔ایسا کوئی نہیں کہتا اس لئے کہ اُسے بچہ سے محبت ہوتی ہے لیکن تم میں سے بعض ایسا کہتے ہیں اس لئے کہ انہیں قادیان سے محبت نہیں۔اگر انہیں قادیان سے محبت ہوتی تو وہ ایسا کیوں کہتے۔میں اُن لوگوں سے جو کہتے ہیں کہ قادیان ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہے اب چندہ کی کیا ضرورت ہے کہتا ہوں کہ یہ چندہ کس لئے تھا ؟ آیا تمہاری حفاظت کے لئے تھا یا قادیان کی حفاظت کے لئے تھا؟ اگر یہ چندہ تمہاری حفاظت کے لئے تھا تو پھر اس کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔لیکن اگر قادیان کی حفاظت کے لئے تھا تو قادیان اب بھی موجود ہے اور جب تک وہ واپس ہمارے ہاتھ میں نہ آ جائے اُس کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا کی ہمارا فرض ہے۔تم اپنے نفس سے پوچھ لو کہ تم نے کس لئے یہ وعدہ کیا تھا۔خیر و عافیت سےا۔سے اپنے آپ کو پاکستان پہنچانے کے لئے یا قادیان کی حفاظت کے لئے ؟ اگر خیر و عافیت سے اپنے آپ کو ہندوستان میں سے لانے کے لئے تم نے اس چندہ کا وعدہ کیا تھا تو تم کہہ سکتے ہو ہم