انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page iv

میں استحکام پاکستان کے حوالہ سے آپ کا خطاب بھی اس کتاب میں شامل اشاعت ہے۔دسمبر ۱۹۴۸ء میں جماعت احمدیہ کا مرکزی جلسہ اپنے مقررہ ایام میں ربوہ میں نہ ہو سکا تھا کیونکہ انتظامات نہ ہو سکے تھے۔یہ جلسہ اپریل ۱۹۴۹ء میں ہوا لیکن دسمبر میں جماعت احمد یہ لاہور نے جلسہ کا انعقاد کیا جس سے حضور نے دو خطابات فرمائے۔یہ دونوں خطابات جلد ہذا میں شامل ہیں۔ایک جرمن کو احمدی کے اعزاز میں تین تقاریب ہوئیں ان مواقع پر جو خطابات حضور نے فرمائے اُن کو بھی کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔اسی طرح جامعتہ المبشرین اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کی طرف سے بیرون ممالک سے آئے ہوئے مربیان کے اعزاز میں دی گئی دعوتوں میں بھی حضور نے خطاب فرمایا ان خطابات کو بھی افادہ عام کے لئے اس کتاب میں شائع کیا گیا ہے۔حضرت مصلح موعود کی جنوری ۱۹۵۰ء میں ایک کتاب ”اسلام اور ملکیت زمین کے نام سے شائع ہوئی جو دراصل کمیونسٹ تحریک پاکستان کی اُس آواز کے جواب میں تھی جو ملکیت زمین کے نام پر اصلاح کرنا چاہتے تھے اور اس کو اسلامی اصلاح کا نام دیا جار ہا تھا اور حکمران مسلم لیگ نے اس اصلاح کے لئے کمیٹیاں بھی تشکیل دے دیں۔حضور نے اپنے مذہبی فرائض کی بجا آوری کرتے ہوئے یہ گوارا نہ کیا کہ مذہب کے نام پر کوئی ایسی بات کہی جائے جو مذہب سے ثابت نہ ہوتی ہو۔چنانچہ آپ نے یہ پُر از معلومات تصنیف فرمائی اور ملکیت زمین کے بارے میں دینی نقطہ نگاہ بیان فرمایا۔یہ تصنیف لطیف بھی اس کتاب کی زینت ہے۔غرضیکہ جلد ہذا جہاں حضرت مصلح موعود کے تجر علمی کی آئینہ دار ہے وہاں یہ کتاب ۱۹۴۸ء سے ۱۹۵۰ء کے تاریخی حالات پر بھی روشنی ڈالتی ہے اور تاریخ احمدیت کے کئی اوراق سے ہمیں آگاہی دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس علمی کاوش کو ہر لحاظ سے نافع الناس اور با برکت بنائے۔آمین