انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 356

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۵۶ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی ہیں مگر سب سے زیادہ ہم خدا تعالیٰ کے وفادار ہیں۔جہاں خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہو گا ہمارا ہاتھ بھی اُسی جگہ ہوگا۔پھر قادیان دلانا ہے تو خدا تعالیٰ نے دلانا ہے ہم میں کیا طاقت ہے کہ قادیان واپس لیں۔خدا تعالیٰ ہی ایسے کرے گا اور جب خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی سب کچھ ہے تو اس کی کی سکیم میں دخل انداز ہونے کی ضرورت کیا ہے۔اگر خدا تعالیٰ ایک صدی کے لئے بھی ہمیں کسی چی اور جگہ رکھنا چاہے تو امَنَّا وَ صَدَّقْنَا ہم اس کے لئے تیار ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایمان عشق کا نام ہے۔محمود غزنوی کو اپنے ایک غلام ایاز نامی سے بہت پیار تھا۔امراء اُس پر حسد کرتے تھے اور حسد کی وجہ۔وجہ سے وہ بادشاہ کے پاس شکایت کرتے رہتے تھے کہ وہ غدار ہے اور بادشاہ کا مال ضائع کرتا ہے۔محمود غزنوی یہ سمجھتا تھا کہ وہ حق پر نہیں بلکہ محض حسد کی بناء پر ایسا کر رہے ہیں۔مگر اُس نے اُنہیں خاموش کرانے کے لئے ایک دن در بار لگایا اور اپنے خزانہ کا سب سے قیمتی موتی جس کی وجہ سے اس کی دُور دُور تک شہرت تھی منگوایا اور وزیر اعظم کو بلا یا اور ہتھوڑا منگوا کر اسے کہا کہ اس موتی کو توڑ دو۔وزیر اعظم نے کہا بادشاہ سلامت! ہمارے باپ دادا بھی آپ کے نمک خوار چلے آئے ہیں ، ہم غدار تھوڑے ہیں کہ اتنے قیمتی موتی کو جس کی وجہ سے آپ کی دُور تک شہرت ہے تو ڑ دیں۔سب درباریوں نے اس کے اس جذبہ کی تعریف کی۔اُس زمانہ میں بادشاہ کے سات وزیر ہوا کرتے تھے۔بادشاہ نے بار باری ساتوں وزیروں کو بلا یا مگر چونکہ وزیر اعظم کا جواب وہ سن ہی چکے تھے اور وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ سب درباریوں نے اسکی تی تعریف کی ہے اس لئے ان میں سے ہر ایک یہی جواب دیتا۔سب درباری تحسین کرتے اور وہ بیٹھ جاتا۔ساتوں وزیروں کے جوابات سننے کے بعد بادشاہ نے اپنے غلام ایاز کو بُلا یا اور اُسے اشارہ کیا کہ اِس موتی کو توڑ دو۔بادشاہ کے منہ سے اس لفظ کا نکلنا تھا کہ اُس نے ہتھوڑا مار کر موتی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔دربار میں ناراضگی کی ایک لہر دوڑ گئی۔سب درباری کہنے لگے کہ یہ کتنا قیمتی موتی تھا ہمارے بادشاہ کی اس موتی کی وجہ سے دُور دُور تک شہرت تھی ، ایسا موتی کسی اور بادشاہ کے پاس نہ تھا لیکن اس بے وقوف نے کچھ بھی نہ سوچا اور ہتھوڑا مار کر موتی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔بادشاہ نے مصنوعی غصہ بنایا اور ایاز سے کہا ایاز ! تم نے دیکھا نہیں تھا کہ ان کا نمونہ