انوارالعلوم (جلد 21) — Page 357
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۵۷ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی کیا تھا ؟ ایاز نے جواب دیا بادشاہ سلامت! جو جواب ان لوگوں نے دیا ہے اُس کی ذمہ داری ان پر ہے، میرے نزدیک محمود کے منہ سے نکلا ہوا ایک لفظ اس قسم کے ہزاروں موتیوں سے زیادہ قیمتی ہے۔اس کی قدر میں جانتا ہوں یہ نہیں جانتے۔دربار پر ایک سناٹا چھا گیا۔بادشاہ کی نے درباریوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا اب بتاؤ تم میں سے کون میرا سچا خیر خواہ ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا ہم ہارے اور یہ جیتا۔پس ہم تو خدا تعالیٰ کو جانتے ہیں اور اُس کے وفا دار ہیں وہ جس طرف اشارہ کرے گا ہم چلے جائیں گے۔وہ اگر کہے تو خواہ کسی پہاڑ کی چوٹی کیوں نہ ہو یا سمندر کی سطح ہی کیوں نہ ہو ہم کہیں گے حضور! یہی بہترین جگہ ہے۔مومن عاشق ہوتا ہے دلیلیں دینا اور بحث کرنا نوکر کا کام ہے عاشق کا کام نہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب نزول اسیح میں بیان فرمایا ہے کہ زکریا کی کتاب کے چودھویں باب میں جہاں یروشلم کا ذکر ہے وہاں یروشلم سے مراد بیت المقدس نہیں بلکہ قادیان ہے اور اس باب میں جو خبر دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک زمانہ میں یروشلم پر حملہ ہو گا۔شہر والے مغلوب ہو جائیں گے اور پھر پہاڑوں کی ایک وادی کی طرف بھاگ جائیں گے جہاں پناہ لیں گے۔کے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا بھی الہام ہے کہ داغِ ہجرت اب سوال یہ ہے کہ یہ ہجرت کہاں ہوئی ہے؟ اس کا پتہ او پر دئیے ہوئے حوالہ سے لگتا ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان کے متعلق بیان فرمایا ای ہے۔پھر آپ کا ایک اور الہام یہ بھی ہے کہ يُخْرِجُ هَمُّهُ وَغَمُّهُ دَوْحَةً إِسْمَاعِيلَ فَأَخْفِهَا حَتَّى تَخْرُجَ یعنی تمہارے ہم اور غم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایک اسماعیلی درخت اُگائے گا لیکن یہ راز چھپائے رکھو یہاں تک کہ وہ درخت نکل آئے۔سو اس ہجرت پر پردہ پڑا رہا یہاں تک کہ قادیان پر جن دنوں حملہ ہو رہا تھا اور میں بتا رہا تھا کہ تم خدائی وعدہ کے مطابق قادیان سے نکلو گے، آپ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم نے تو یہاں سے ہلنا نہیں۔پھر ان لوگوں میں سے جو کہہ رہے تھے کہ ہم نے ہلنا نہیں بعض نکل آئے مگر دوسرے لوگ پھر بھی کہہ رہے تھے کہ ہم نے تو یہاں سے نہیں جانا۔حقیقت یہ ہے کہ قادیان سے محبت کی وجہ سے کسی کا اس طرف خیال ہی نہیں جاتا تھا کہ ہجرت ہوگی اور ہم قادیان کو چھوڑ کر باہر آ جائیں گے۔جیسے رسول کریم۔