انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 298

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۹۸ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح میں سمجھتا ہوں کہ انسان اور حیوان میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ انسان سوچتا ہے اور کی حیوان نہیں سوچتا۔حیوان ابتدائے آفرینش سے ایک ڈگر پر چلا آیا ہے لیکن انسان نے سوچ سوچ کر اپنے لئے نئے راستے ایجاد کر لئے ہیں اور جب کبھی انسان نے اپنے اس مقررہ طریق کو چھوڑا ہے وہ ہمیشہ نیچے گیا ہے او پر کبھی نہیں گیا۔پس اصل چیز جس پر ہمیں زور دینا چاہیے اور جس کی طرف ہمیں توجہ رکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم اپنی اس عادت کو نہ چھوڑیں جس عادت کو اللہ تعالیٰ نے ہماری ترقی کے لیے ضروری قرار دیا ہے اور وہ سوچنے کی عادت ہے۔اگر ہم بے سوچے سمجھے اپنے لئے کوئی طریق اختیار کر لیں گے تو یہ لازمی بات ہے کہ ہم ترقی نہیں کریں گے بلکہ ہم جس جگہ کھڑے ہوں گے وہیں کھڑے رہیں گے اور یہ قانونِ قدرت ہے کہ جو کھڑا کی ہو جاتا ہے وہ پیچھے کی طرف جاتا ہے اپنے مقام پر قائم نہیں رہ سکتا۔اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا ایسی بنائی ہے کہ یا تو انسان آگے جائے گا یا پیچھے جائے گا کوئی مقام ایسا نہیں جہاں وہ کھڑا رہ سکے۔دنیا کی تاریخ دیکھ لو جس وقت سے بنی نوع انسان کی تاریخ کا پتہ چلتا ہے اور قرآن کریم کے ذریعہ تو ساری دنیا کی تاریخ کا علم حاصل ہوتا ہے کیونکہ آدم کے زمانہ سے اس نے تاریخ بیان کی ہے یہی نظر آتا ہے کہ یا تو لوگ آگے چلتے ہیں یا پیچھے ہٹتے ہیں ، ایک جگہ پر کھڑے ہونے کی تی مقدرت انسان کو عطا نہیں کی گئی۔اس لئے کھڑے ہونے کے کوئی معنی ہی نہیں اور آگے جانے کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ ہمارا مقصد کیا ہے اور ہم میں اتنی استعداد ہو کہ ہم ہر چیز پر غور کر کے اپنے لئے کوئی راستہ تجویز کر سکیں۔پس ترقی کے لئے ہمیں اس بات کی عادت ڈالنی چاہیے کہ ہم سوچیں اور سمجھیں اور غور و فکر سے کام لیں اور پھر مناسب غور و فکر کے نتیجہ میں جو مفید باتیں معلوم ہوں اُن پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یقیناً ہم اپنے ک آپ کو ایک مفید وجود بناتے اور اپنی زندگی سے صحیح رنگ میں فائدہ اُٹھاتے ہیں لیکن اگر ہم ی سوچتے اور سمجھتے نہیں یا سوچنے اور سمجھنے کے بعد جو مفید باتیں معلوم ہوں اُن پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو ہم اپنی زندگی کے مقصد کو بھول کر ایک ایسی شاہراہ پر قدم مارتے ہیں جو انسان کو ہلاکت اور بربادی کی طرف لے جاتی ہے اسے کامیابی اور ترقی سے ہمکنار نہیں کر سکتی۔