انوارالعلوم (جلد 21) — Page 277
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۷۷ اسلامی شعار اختیار کرنے میں ہی تمہار امیابی ہے ہوتی ہے مجھے بھی بوجھل معلوم ہوتی تھی۔ہم سمجھتے تھے کہ ہم نئے فیشن کے ہیں۔ایک دفعہ غالباً عید کا دن تھا میں کپڑے پہن کر باہر نکلا ، میں جس کمرہ میں تھا اُس کا ایک دروازہ برآمدہ میں کھلتا تھا اور ایک باہر۔میں کپڑے بدل کر برآمدہ میں پہنچا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی گھر سے نکلے اور اُس دروازہ میں پہنچے۔میں نے بھی اُسی دروازہ سے گزرنا تھا اور آپ بھی اُسی دروازے سے گزرے۔میں نے ٹوپی پہنی ہوئی تھی اور صرف اُس کی دن ہی نہیں بلکہ بچپن سے پہنتا چلا آیا تھا لیکن آپ نے مجھے دیکھ کر کہا عید کے دن بھی ٹوپی ؟ یہ فقرہ گو سادہ تھا لیکن مجھ پر اس کا یہ اثر ہوا کہ میں اُسی وقت واپس گیا اور کسی سے کپڑا مانگ کر پگڑی باندھی اور اُس دن کے بعد کبھی میں نے ٹوپی نہیں پہنی۔ایک دفعہ آپ فرمانے لگے ہمارے خاندان کا یہ طریق ہے کہ جب ہم میں سے کوئی حصی باہر نکلتا ہے تو کوٹ پہن کر نکلتا ہے اور سوئی ہاتھ میں رکھتا ہے اس لئے تم بھی جب باہر نکلو تو کوٹ پہن کر نکلو اور سوئی ہاتھ میں لے کر نکلو اور جب گھوڑے کی سواری کرو تو پڑکا باندھو۔میں نے بے بات آپ سے سنی اور اُسی دن سے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ایک دن شامت اعمال میں پھنس گیا حضرت خلیفہ امسیح الاوّل نے مجھ سے پوچھا میاں ! تم گھر سے نکلتے ہو تو کوٹ پہن کر اور ہاتھ میں سوئی پکڑ کر نکلتے ہو اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ ہمارے خاندان کا یہ طریق تھا کہ جب بھی اُس کے افراد گھر کی سے باہر نکلتے تھے تو کوٹ پہن کر نکلتے تھے اور ہاتھ میں سوئی لے کر نکلتے تھے اور اگر گھوڑے کی سواری کا موقع ہو تو پڑکا باندھتے تھے اس لئے میں بھی ایسا کرتا ہوں۔یہ تو لمبی بات بھی ہے گھوڑے کی سواری سے عموماً پیٹ بڑا ہو جاتا ہے اور اگر پڑکا باندھ لیا جائے تو پیٹ بڑھتا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد تحصیلدار ہمارے نام داخل خارج چڑھانے کے لئے آیا اُن دنوں سرکاری حکام جب قادیان آتے تو مرزا نظام الدین صاحب کے ہاں ٹھہراتی کرتے۔اُس نے مجھے وہاں بلوایا میں حضرت خلیفہ اول کے پاس پڑھ رہا تھا اس لئے ادب کی وجہ ہے نہ اُٹھا۔دوسری دفعہ اُس نے پیغام بھیجا میں نہ گیا۔پھر تیسری دفعہ پیغام بھیجا تو حضرت خلیفہ اصبح الاول نے فرمایا میاں! یہ افسر لوگ ہیں چلے جاؤ۔حضرت خلیفہ اول کے ادب کی وجہ