انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 276

انوار العلوم جلد ۲۱ اسلامی شعار اختیار کرنے میں ہی تمہاری کا ابھی آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کچھ لکھا نہیں تھا کہ کسی شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جا کر شکایت کر دی کہ بڑے مولوی صاحب نے اپنے بھتیجے سے کہا ہے کہ قادیان سے باہر نہ جاؤ اور یہ نہ بتایا کہ آپ نے تھوڑی دیر کے لئے صرف اس لئے اُسے روکا ہے تا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں اس کی سفارش کرسکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اگر مولوی صاحب یہ کہتے ہیں کہ وہ باہر نہ جائے تو پھر وہ بھی اس کے ساتھ ہی تشریف لے جائیں۔اس پر حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس تشریف لائے اور آپ نے بتایا کہ میں نے تو یوں کی کہا تھا مگر شکایت کرنے والے نے آدھی بات بتائی اور آدھی نہ بتائی۔غرض تلخ باتیں سننے کی عادت ڈالنی چاہیے۔اگر تم تلخ باتیں نہیں سنو گے تو کام کرنے کی عادت نہیں پڑے گی۔میں جب کہتا ہوں کہ تلخ باتیں سنو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم بے غیرت بن جاؤ تلخ باتیں سنو لیکن بے غیرت بن کر نہیں۔تمہیں غصہ آئے لیکن اپنے آپ پر ، استاد اور مصلح پر نہیں۔تم یہ سمجھو کہ میں نے غلطی کی ہے جس کی وجہ سے مجھے یہ سزا ملی ہے میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔میری طبیعت پر سب سے بڑا اثر انہی تلخ باتوں نے کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ان سے بہت فائدہ پہنچا ہے۔مثلاً اسلامی شعار ہیں آجکل اسلامی شعار اختیار کرنے کے لئے۔ہمت سے کام لینا پڑتا ہے۔یہ زمانہ ایسا ہے جس میں اسلام کی کوئی بھی چیز باقی نہیں رہی۔کم يَبْقَ مِنَ الْإِسْلَامِ اِلَّا اسْمُهُ اسلام صرف نام کا رہ گیا ہے۔تم اگر کسی کو ہیٹ پہنے دیکھو گے تو کہو گے دیکھو! وہ انگریز بنا پھرتا ہے لیکن اپنے منہ پر دیکھو تو وہاں انگریزیت پائی جاتی ہوگی، داڑھی منڈوائی ہوئی ہوگی ، تم سر سے انگریز نہیں ہو گے تو منہ سے انگریر بنے ہوئے ہو گے ، کسی کے سر پر پگڑی ہوگی تو نیچے سوٹ پہنا ہو گا۔غرض کسی نہ کسی رنگ میں انگریزیت ضرور غالب ہوگی اور اس کا مقابلہ کرنا تمہیں مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن یہی مقابلے ہیں جو انسان کے لئے کارآمد ہوتے ہیں اور اس میں ہمت پیدا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب نصیحت فرمایا کرتے تھے تو بعض دفعہ آپ کا یہ طریق ہوتا تھا کہ آپ ایک چھوٹا سا فقرہ کہہ دیتے۔میں بچپن میں بھی ٹوپی پہنا کرتا تھا جس طرح آجکل کے نوجوانوں کو پگڑی بوجھل معلوم