انوارالعلوم (جلد 21) — Page 259
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۵۹ اسلام اور موجودہ مغربی نظرب مسئلہ پر ہنسی اُڑائی ہے۔ان کے بڑے بڑے فلسفی اور مقنن یہ کہا کرتے تھے کہ اس تعلیم سے عورت اور مرد کے محبت کے حقوق کو تلف کر دیا گیا ہے مگر آج کیا حال ہے امریکہ طلاق کا قانون پاس کر چکا ہے، انگلستان میں بھی آہستہ آہستہ طلاق کو نرم کیا جا رہا ہے اور روس میں بھی بے حد آزادی ہے۔امریکہ میں تو اتنی معمولی معمولی باتوں پر طلاق واقع ہو جاتی ہے کہ حیرت آتی کی ہے۔اسلام نے تو طلاق اور ضلع کے ساتھ کئی قسم کی شرائط رکھ دی ہیں لیکن وہاں بعض دفعہ اتنی سی تی بات پر طلاق ہو جاتی ہے کہ مثلاً عورت کہتی ہے میں نے ایک ناول لکھا ہے مگر میرا خاوند کہتا ہے کہ یہ ناول بیہودہ ہے۔مقدمہ عدالت میں جاتا ہے تو حج عورت کے حق میں فیصلہ دے کر اُسے طلاق دلوا دیتا ہے۔غرض اس مسئلہ میں بھی مغرب نے اسلام سے ٹکرا کر شکست کھائی اور فتح اسلام ہی کو حاصل ہوئی۔پھر حرمت شراب کا مسئلہ ہے اسلام نے نہایت واضح الفاظ میں شراب کو حرام قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ گو اس میں کچھ فوائد بھی ہیں مگر اس کے نقصانات اس کے فوائد سے بڑھ کر ہیں۔اس لئے ہم اس کا استعمال تمہارے لئے حرام قرار دیتے ہیں۔یورپ نے اس تعلیم پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ اسلام انسان کی علو حوصلگی اور بڑائی کو نہیں سمجھتا ، اسلام فطرت کے نازک جو ہروں کو نہیں سمجھتا۔وہ ایشیائی لوگ تھے جو شراب پی کر بد مست ہو جایا کرتے تھے اور ان کی عقل ٹھکانے نہیں رہتی تھی۔ہمارے یورپ والے پیگ پیتے ہیں تو ان کی عقل پہلے سے بھی زیادہ تیز ہو جاتی ہے مگر پھر ٹھوکریں کھانے کے بعد امریکہ نے ہی قانون بنایا کہ شراب پینا نا جائز ہے۔اگر پیگ عقل کو تیز کرتا ہے تو امریکہ نے شراب کو حرام کرنے کی کیوں کوشش کی؟ مگر پندرہ سال کے بعد امریکہ نے دوبارہ شراب پینا جائز قرار دے دیا اور اس طرح ایک بار پھر اسلام کی صداقت واضح ہوگئی اور دنیا پر ثابت ہو گیا کہ قرآن نے جو کچھ کہا تھا اس کے پیچھے خدائی طاقت کام کر رہی تھی مگر یورپ کی آواز کے پیچھے کوئی خدائی طاقت نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا تو وہ ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی لیکن امریکہ نے شراب کو حرام قرار دیا تو پندرہ سال کے بعد وہ پھر اس قانون کو منسوخ کرنے پر مجبور ہو گیا۔پھر کثرت ازدواج کا مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جس کی حکمت اس زمانہ میں واضح