انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 258

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۵۸ اسلام اور موجودہ مغربی نظر قرآنی احکام پر عمل کریں۔تو انہیں نقصان ہو۔عمل کے نتیجہ میں ہمیشہ نعمت ہی نعمت انہیں میسر آئے گی۔بتایا کہ ) (اس کے بعد حضور نے سورہ مائدہ کی ان آیات کی تفسیر فرمائی جو او پر درج کی گئی ہیں اور ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نہایت واضح رنگ میں موجودہ زمانہ کے مـقـنـنـوں اور فلسفیوں کے پیچھے چلنے سے روکا ہے اور بتایا ہے کہ تمہاری تمام ترقی اسلام اور قرآن پر عمل کرنے میں ہے نہ کہ قانون اور فلسفہ اور اقتصاد اور سائنس اور صنعت و حرفت کے ماہرین کے پیچھے چلنے میں۔( سلسلہ تقریر کو جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ:۔) اس زمانہ میں مغربی اقوام کے مختلف نظریات اسلام سے ٹکراتے ہیں جن میں سے بعض مذہبی ہیں اور بعض سیاسی اور اقتصادی۔لیکن کوئی ایک نظریہ بھی ایسا نہیں جس میں مغرب کو شکست فاش نہ ہوئی ہو۔مذہبی نظریوں میں سے سب سے بڑا تو حید کا نظریہ ہے۔عیسائیت نے جب ترقی کی تو حضرت عیسی علیہ السلام کو اُنہوں نے خدا اور خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا بلکہ نادان مسلمانوں نے بھی بعض خدائی صفات حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کرنی شروع کر دیں اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ انہیں کچھ علم غیب حاصل تھا۔وہ بھی بعض جانور زندہ کر لیا تی کرتے تھے ، وہ بھی مُردے زندہ کر لیتے تھے اور اس طرح وہ عیسائیت کی تقویت کا موجب ہو گئے مگر اسلام سے ٹکر کھانے کے بعد مغرب اپنے اس نظریہ پر قائم نہ رہ سکا اور وہی یورپ جو اسلام کی پیش کردہ تو حید پر حملہ کیا کرتا تھا آج اپنے منہ سے تثلیث کا انکار اور توحید کا اقرار کر رہا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ قومی لحاظ سے یورپ کیا کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا آج بھی وہ تین خداؤں کا قائل ہے؟ آج اگر عیسائیوں سے پوچھا جائے تو وہ صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہماری مراد صرف یہ ہے کہ حضرت مسیح خدا کے مقرب تھے ورنہ خدا ایک ہی ہے۔غرض یورپ عقیدہ توحید میں اسلام سے ٹکرایا مگر اس ٹکراؤ کے نتیجہ میں اسلام ہی غالب آیا۔پھر طلاق کا مسئلہ لے لو۔یورپین مصنفین نے اپنی کتب کے ہزاروں ہزار صفحات میں اس