انوارالعلوم (جلد 21) — Page 172
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۷۲ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر کیں جو کمیشن کے سامنے مسلمانوں کی طرف سے کیس پیش کر رہا تھا تا کہ کسی طرح قادیان بھی پاکستان میں شامل ہو جائے۔میں نے انگلستان سے ایک جغرافیہ دان بھی بلا یا جو وہاں ایک یو نیورسٹی کا مشہور پروفیسر اور مصنف تھا تا کہ وہ کمیشن کی امداد کرے۔لیکن یہ چیز یا تو پہلے سے طے شدہ تھی یا مخفی طور پر ہندوستان یونین سے وعدہ کر لیا گیا تھا کہ سکھوں کو خوش کرنے کے کئے ضلع امرتسر اور گورداسپور جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ہندوستان کو دے دیا جائے گا۔مجھے خوب یاد ہے جب کمیشن کے سامنے مسٹر سیل واڈ نے جو ہندوؤں کے وکیل تھے اپنی آخری تی تقریر شروع کی تو جس وقت وہ گورداسپور پر پہنچے انہیں یہ معلوم تھا کہ میں نے تمام مسالہ جمع کر کے مسلمان نمائندوں کو دیا ہے اُنہوں نے گورداسپور پر پہنچتے ہی ذرا ٹیڑھے ہو کر میری طرف کی دیکھا اور ایک دھمکی آمیز رنگ میں کہا گورداسپور بہر حال ہندوستان یونین کی طرف جائے گا تی اور اس کو پاکستان میں شامل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو نقصان پہنچے گا۔مسٹر سیتل واڈ اُس وقت انسانی نظر سے دیکھ رہا تھا لیکن ہم انسانی نظر سے نہیں دیکھا کرتے ہم آسمانی نظر سے دیکھنے کے عادی ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کفار مکہ نے فیصلہ کیا کہ ہم انہیں قید کر لیں گے یا مکہ سے باہر نکال دیں گے یا مار ڈالیں لے کچھ گے تو ان کی تمام تدبیریں اور چالیس عدم علم کی وجہ سے تھیں۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ ان کی ان تدبیروں اور اُن کی اِن چالوں کے کیا نتائج نکلنے والے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے کفار مکہ کو ساری تدبیروں کا موقع دیا لیکن آخر خدا تعالیٰ کی بات ہی غالب آئی اور انہیں شرمندگی کی وجہ ی سے سر جھکانے پڑے۔یہی بات قادیان کی ہوگی۔انڈین یونین کیا ہے ساری دنیا بھی کی اگر چاہے کہ وہ ہمیں قادیان سے دوامی طور پر نکال دے تو وہ نیست و نابود ہو جائے گی اور آخرکی قادیان ہمارا ہی ہوگا اور ہم اُسے حاصل کر کے رہیں گے۔ہم نے خدا تعالیٰ کے ہاتھ دیکھے ہیں ، ہم نے خدا تعالیٰ کے فرشتوں کی فوجوں کو دیکھا ہے، ہم نے اُس کے اقتدار کا خود معائنہ کیا ت ہے۔ہمیں انسانی تدبیروں، مکروں اور چالوں کا کیا ڈر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے۔آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے“ سے جنگ بھی ایک قسم کی آگ ہے۔ہم جنگ نہیں کرتے بلکہ ہم امن کے ساتھ خدا تعالیٰ کے دین کو تمام