انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 171

انوار العلوم جلد ۲۱ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر فرموده ۱۶ را پریل ۱۹۴۹ء بر موقع پہلا جلسہ سالانہ منعقدہ ربوہ ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں کل دوستوں کو بتا چکا ہوں کہ ہمارا یہ جلسہ سالانہ احمدیت کیلئے ایک مرکز جدید اختیار کرنے کا جلسہ ہے۔ان ایام میں ہمارے سب افکار اور ہماری ساری گفتگوئیں اور ہمارے کی سارے جذبات صرف ایک اور ایک مقصد کیلئے وقف رہنے چاہئیں۔تقریریں ہوتی رہتی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔باتیں دنیا کیا ہی کرتی ہے اور کرتی ہی چلی جائے گی مگر جو دن کسی خاص مقصد کے لئے اختیار کیا جاتا ہے وہ اُسی مقصد کے استعمال میں زیادہ تر خرچ ہونا چاہیے۔دنیا نے، اس سیاسی دنیا نے جس سے ہمارا کوئی واسطہ نہ تھا اس دنیا نے جس کے مادی کاموں سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں تھی ، اس دنیا نے جس نے ہمیشہ ہی ہماری بدخواہی کی اور ہم نے اس کی ہمیشہ خیر خواہی کی ایسا رویہ اختیار کیا کہ اس کی تدبیروں اور مکروں کے نتیجہ میں ہمیں وہ مقام چھوڑنا پڑا جس میں ہم امن اور اطمینان کے ساتھ اور بغیر کسی قسم کے لڑائی جھگڑے کے خدمت اسلام کا فرض سرانجام دے رہے تھے۔ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہم اُس جگہ کو چھوڑیں، ہم نہیں چاہتے تھے کہ دوسری باتوں میں ملوث ہوں۔جب سے پاکستان بنا ہے قدرتی طور پر ہماری یہ خواہش تھی کہ ہم بھی اس کے ساتھ ہوں اور ہم بھی اِس کے ساتھ وابستہ ہوں مگر اِس طرح نہیں کہ یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ ہم قادیان چھوڑ کر پاکستان میں آجائیں بلکہ ہماری یہ خواہش تھی کہ قادیان بھی پاکستان میں آ جائے۔اس کیلئے باؤنڈری کمیشن (BOUNDRY COMMISSION) کے ایام میں میں خو د لا ہور گیا اور میں نے تمام ضروری معلومات مسلمانوں کے اُس نمائندے کو مہیا