انوارالعلوم (جلد 21) — Page xix
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۴ تعارف کت تم ہر قسم کے دشمن کا مقابلہ کر سکو گے اور تمہاری عقل اتنی تیز ہو جائے گی کہ دنیا کا کوئی علم ایسا نہیں ہو گا جس سے تم مرعوب ہو۔“ (۱۰) با قاعدگی سے نمازیں پڑھنے ، اس کے اثرات پر غور کرنے اور دوسروں کو وعظ ونصیحت کرنے کی عادت پیدا کرو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۱۸ اگست ۱۹۴۹ء کو پارک ہاؤس کوئٹہ میں لجنہ اماءاللہ کوئٹہ کے ایک اجلاس سے خطاب فرمایا۔جس میں کئی غیر احمدی خواتین نے بھی شرکت کی۔اس خطاب میں حضور انور نے سب سے پہلے اجلاس مقررہ وقت سے دیر کے بعد شروع ہونے کی وجہ سے وقت کی پابندی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔دو کسی شخص کے بڑا ہونے کیلئے یہ شرط ہے کہ وہ وقت کی زیادہ پابندی کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اوقات کی پابندی کیا کرتے تھے۔اور پھر لجنہ اماءاللہ کو نماز کی پابندی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا :۔اول: یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ باقاعدگی سے نماز ادا کریں۔دوم دینی مشاغل میں وہ یادر کھے کہ جس طرح جسم کی غذا ہے اُسی طرح روح کی بھی غذا ہے جس طرح جسم کو غذا نہ ملے تو وہ مر جاتا ہے اسی طرح روح بھی بغیر غذا کے مر جاتی ہے۔مگر نہ جسمانی غذا جسم کا مقصود ہے نہ روحانی غذا روح کا مقصود ہے۔جسمانی غذا ہم اس لئے استعمال کرتے ہیں تا خون پیدا ہو اور طاقت حاصل ہو اور اُس طاقت سے ہم دوسرے کام کریں۔اسی طرح روحانی غذاؤں کی بھی یہی غرض ہے کہ ہمیں روحانی طاقت ملے جس کے ذریعہ ہم دوسرے کام کر سکیں۔اگر غذا ہی اصل مقصود ہوتی تو خدا تعالیٰ یہ کیوں فرما تا۔