انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 142

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۴۲ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر اللہ تعالیٰ سے مانگیں۔میں اس وقت اسی پر بس کرتا ہوں۔اگر میری تقریر کے لمبا ہو جانے کی وجہ سے بعض تقریریں ضائع ہوگئی ہیں تو بیشک ہو جائیں ہمارا مقصد اس جلسہ میں تقریریں کرنا نہیں بلکہ دعائیں کر کے اس مقام کو بابرکت بنانا ہے۔میں نے دعائیں سکھا دی ہیں یوں انسان کے ذہن میں دعائیں نہیں آتیں مگر نبیوں کے ذہن میں جو دعا ئیں آتی ہیں وہ نہایت کامل ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے نبی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہا السلام کے دل میں ایسے وقت میں جو خیالات آئے اور جو کچھ ان مقدس مقامات کے فرائض اور ذمہ داریاں ہیں اور کامیابی کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کے جن فضلوں کی ضرورت ہے ان تمام چیزوں کو آپ کی نے اللہ تعالیٰ سے مانگا ہے اور اب آپ سب لوگ میرے ساتھ مل کر دعا کریں۔یہ زمین ابھی کی ہمیں پورے طور پر ملی نہیں ہم تفاؤل کے طور پر اسے اپنا مرکز بناتے ہیں اور دعاؤں کے ساتھ اسے اپنا مذہبی مقدس مقام قرار دیتے ہیں اس کے بعد ہمارا فرض ہوگا کہ اس مقام کو ہمیشہ اپنے کی ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کریں اور ہمیشہ دین اسلام کی خدمت اور خدا تعالیٰ کے نام کی بلندی کے لئے اسے استعمال کرنے کی کوشش کریں۔پس آؤ جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لے گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ اے خدا! میں ابراہیم کی طرح تجھ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ تو مدینہ کو بھی اُسی طرح برکتیں دے جس طرح تو نے مکہ کو برکتیں دی ہیں اسی طرح ہم بھی اس مقام کے بابرکت ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں۔ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں لیکن ی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور غلام ضرور ہیں اور جہاں آقا جاتا ہے وہاں خادم بھی کی جایا کرتا ہے۔گورنر کی جب کسی جگہ دعوت ہو تو اُس مقام پر گورنر کا چپڑ اسی پہنچ جایا کرتا ہے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہونے کی حیثیت سے ہمارا بھی خدا پر حق ہے اور ہم بھی خدا تعالیٰ کو اُس کا یہ حق یاد دلاتے ہوئے اُس سے کہتے ہیں کہ اے خدا ! جس طرح تو نے مکہ اور مدینہ اور قادیان کو برکتیں دیں اُسی طرح تو ہمارے اس نئے مرکز کو بھی مقدس بنا اور اسے اپنی برکتوں سے مالا مال فرما۔یہاں پر آنے والے اور یہاں پر بسنے والے، یہاں پر مرنے والے اور یہاں پر جینے والے سارے کے سارے خدا تعالیٰ کے عاشق اور اُس کے نام کو بلند کرنے