انوارالعلوم (جلد 21) — Page 118
انوار العلوم جلد ۲۱ رَبَّنا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ ۱۱۸ فَاجْعَل آفئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ فَاجْعَل آفئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ فَاجْعَل آفئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي الَيْهِمْ وارزُقُهُم مِن الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ اس کے بعد حضور نے فرمایا: ) ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر XXXXXXXXXXX آج سے قریباً ۴۵ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کو حکم ہوا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو خدا تعالیٰ کی راہ میں ذبح کر ڈالے۔یہ رویا اپنے اندر دو حکمتیں رکھتی تھی۔ایک حکمت تو یہ تھی کی کہ اُس وقت سے پہلے انسانی قربانی کو جائز سمجھا جاتا تھا اور خصوصیت کے ساتھ لوگ اپنی اولادی کو خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے یا اپنے بتوں کو خوش کرنے کے لئے قربان کر دیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کی مشیت نے فیصلہ کیا کہ اب بنی نوع انسان کو اس مہیب اور بھیا نک فعل سے باز رکھنا چاہیے کیونکہ انسانی دماغ اب اتنی ترقی کر چکا ہے کہ وہ حقیقت اور مجاز میں فرق کرنے کا اہل ہو گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بندے کو جس کا نام ابراہیم تھا یہ رویا دکھائی۔اس رویا میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک حکمت یہ تھی کہ آئندہ انسانی قربانی کو روک دیا جائے اور دوسری حکمت یہ تھی کہ خدا تعالیٰ انسان سے حقیقی قربانی کا مطالبہ کرنا چاہتا تھا جو مطالبہ اس سے پہلے انسان سے نہیں ہوا تھا۔بہر حال جب سے انسان اس قابل ہوا کہ اس پر الہام نازل ہوکسی نہ کسی صورت میں لوگ خدا تعالیٰ کی عبادت کیا ہی کرتے تھے لیکن ابھی ایسا زمانہ انسان پر نہیں آہ تھا کہ کچھ لوگ اپنی زندگیوں کو کلی طور پر خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دیں۔نماز تو لوگ پڑھتے تھے ، روزہ بھی رکھتے تھے ، ذکر الہی بھی لوگ کرتے تھے کیونکہ ان چیزوں کے بغیر روحانیت زندہ نہیں رہ سکتی۔اگر آدم ایک روحانی انسان تھا تو نوح اور آدم اور اُن کے متبع یقیناً نماز بھی پڑھتے تھے، ذکر الہی بھی کرتے تھے اور روزہ بھی رکھتے تھے کیونکہ روح بغیر ان چیزوں کے چلا نہیں پاتی اور روح کے جلا پائے بغیر خدا تعالیٰ کا قرب اور اُس کا وصال حاصل نہیں ہوسکتا۔مگر