انوارالعلوم (جلد 21) — Page 119
انوار العلوم جلد ۲۱ 119 ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر اس قربانی اور اُن قربانیوں میں کیا فرق تھا ؟ فرق یہ تھا کہ ہر شخص اپنے اپنے طور پر نمازیں ادا کرتا تھا اور کوئی ایسا شخص بھی ہوتا تھا جس کو خدا تعالیٰ چن لیتا تھا اور اسے مقرر کرتا تھا کہ تم اپنی زندگی میں میری طرف سے مامور کی حیثیت رکھتے ہو۔تم بنی نوع انسان کو مخاطب کرو اور اُنہیں میری طرف لانے کی کوشش کرو۔یہ لوگ انبیاء علیہم السلام ہوتے تھے مگر ان کے علاوہ کوئی ایسے گر وہ نہیں ہوتے تھے جو اپنی زندگیوں کو کسی مخصوص مقام سے وابستہ کر دیں اور دن اور رات ذکر الہی کے شغل کو جاری رکھیں۔اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ جہاں وہ اس غیر حقیقی قربانی کو منسوخ کر دے جو چھری کے ذریعہ سے بیٹوں کو قتل کر کے ادا کی جاتی تھی وہاں وہ اس حقیقی قربانی کی بنیاد ڈال دے کہ دنیا کو چھوڑ کر انسان اپنی زندگی محض خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دیا کرے۔چھری انسانی زندگی کو ایک منٹ میں ختم کر دیتی ہے۔بالکل ممکن ہے کہ جنہوں نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کے لئے دی اور چھریوں اور نیزوں سے اپنے آپ کو قربان کروا دیا اگر وہ ایک سال اور زندہ رہتے تو مرتد ہو جاتے ، ایک سال اور زندہ رہتے تو اُن کے ایمان کمزور ہو جاتے ، ایک سال اور زندہ رہتے تو اُن کے اندر عبادت کے لئے وہ جوش و خروش باقی نہ رہتا جو اُس وقت اُنہوں نے دکھایا تھا۔پس چھری کے ساتھ انہوں نے مشتبہ انجام کو چھپایا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جوشخص اپنی مرضی سے اپنی زندگی قربان کرتا ہے یا جو شخص اپنی مرضی سے اپنی اولا د کو قربان کرتا ہے وہ اس کی بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ ڈرتا ہے کہ وہ اور اُس کی اولا د لمبے امتحانوں میں سے گذرتے ہوئے نا کام نہ رہ جائے اور وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہی اپنی زندگی یا اپنی اولاد کی زندگی کی ختم کر دیتا ہے۔مگر جو شخص ساری عمر قربان ہوتارہتا ہے ، موت کے ذریعہ نہیں بلکہ ترک منہیات سے ، ذکر الہی کی پابندی اختیار کرنے سے تبلیغ اسلام کو اختیار کرنے سے ، بنی نوع انسان کی تربیت کی ذمہ داری لینے سے ، وہ دلیرانہ اِس سمندر میں کو دتا ہے۔وہ اپنا خاتمہ موت سے نہیں کرتا بلکہ وہ اپنا ایمان اپنی زندگی سے ثابت کر دیتا ہے۔مرنے والے کے متعلق کوئی نہیں کہ سکتا تج کہ اگر وہ زندہ رہتا تو ایماندار رہتا مگر جس نے زندہ رہ کر اپنے ایمان کو ثابت کر دیا اور جس نے مدت تک اپنے ایمان کو سلامت لے جا کر عملی طور پر اس کے سچا ہونے کا ثبوت دے دیا،