انوارالعلوم (جلد 21) — Page 78
انوار العلوم جلد ۲۱ ۷۸ ہرعبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر نہیں دی جاسکتی۔ہم نے برطانیہ پر زور دیا کہ جب تمہارے پادری وہاں جاتے ہیں اور تم کہتے ہو کہ مذہب کے بارہ میں کلی طور پر آزادی ہونی چاہئے تو کیا وجہ ہے کہ ہم اپنا مبلغ وہاں نہیں بھیج سکتے۔اس چیز کا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے لیکن اُنہوں نے یہ بہانہ بنایا کہ ہمارے پادری جو وہاں جاتے ہیں اُن کے راشن اور مکانوں کا انتظام ملٹری کرتی ہے اگر آپ کا مبلغ وہاں گیا تو وہ کہاں رہے گا اور کہاں سے کھائے گا؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہاں مکانوں کی قلت ہے اکثر مکانات گرائے جاچکے ہیں اور راشن کی بھی دقت ہے۔چنانچہ ہم نے اپنے نو مسلموں سے خط و کتابت کی۔اُنہوں نے لکھا کہ اگر مستقل طور پر نہیں تو عارضی طور پر دس یا پندرہ دن کے لئے۔تو وہ ہمارے ہاں مہمان رہ سکتے ہیں۔یہ وہ چیز تھی کہ جس کی وجہ سے وہ کوئی اور حیلہ پیش نہ کر سکے اور پچھلے سال ہی اُنہوں نے ہمارے مبلغوں کو ہر تین ماہ میں پندرہ دن وہاں رہنے کی اجازت دے دی اور ہمارے مبلغ وہاں باری باری جاتے رہے اب جب کہ یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ مغربی جرمنی کا انتظام جرمنی کے سپرد ہی کر دیا جائے ہمیں خیال پیدا ہوا کہ اگر اس فیصلہ پر عمل شروع ہو گیا تو پھر ہمیں اپنا مبلغ وہاں بھیجنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ پھر یہ بہانہ لگا دیا جائے گا کہ جرمن لوگ آپ کے مبلغوں کو نہیں آنے دیتے۔ہم نے کوشش کی کہ اس عرصہ میں ہمارے لئے کوئی رستہ کھل جائے۔چنانچہ اب اطلاع آئی ہے کہ ہمارا ایک مبلغ وہاں پہنچ گیا ہے۔مسٹر عبداللہ کو ہنے نے لکھا تھا کہ مکان کا بندوبست ہو گیا ہے اس لئے اب کسی کو اعتراض کی گنجائش نہیں۔یہ مشن ہیمبرگ میں کھولا گیا ہے۔برلن میں مشن قائم کرنے میں بہت سی مشکلات تھیں اس لئے وہاں مشن نہیں کھولا گیا۔بہر حال میں نے آپ لوگوں کو بتایا ہے کہ جرمنی کے علاقہ میں لوگ کس طرح مسلمان ہو رہے ہیں اور کس طرح وہاں انہیں اسلام کی طرف رغبت پیدا ہوئی ہے۔جو قربانی اور کام کی روح ان لوگوں میں پائی جاتی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ جب یہ لوگ اسلامی قبول کریں گے تو اسلام کے لئے یہ ویسی ہی قربانیاں کریں گے جس طرح یہ لوگ دنیا کے لئے قربانیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔مثلاً مسٹر کنزے ہیں۔انہیں ہمیشہ یہ احساس رہتا ہے کہ جو کام تم دوسرے سے لیتے ہو وہی مجھ سے لو۔مسٹر کنزے جب لندن میں تھے تو وہاں کے