انوارالعلوم (جلد 21) — Page 79
انوار العلوم جلد ۲۱ ۷۹ ہرعبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر مشنریوں کی اطلاع تھی کہ یہ ہمیشہ اصرار کرتے تھے کہ جو کام آپ کرتے ہیں وہی کام میں بھی کروں گا۔وہ مہمان سمجھ کر ان کا لحاظ کرتے تھے لیکن ان کی طرف سے ہمیشہ یہ اصرار ہوتا تھا کہ میں ویسے ہی یہاں رہوں گا جس طرح آپ لوگ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں۔ان کا لباس بھی سادہ تھا اور یہ چاہتے ہیں کہ اپنے ہر کام کو ہمارے طریق پر کریں۔جب ہم لاہور سیالکوٹ آ رہے تھے۔بارش ہو رہی تھی ہم اپنا کھانا ساتھ لائے تھے اور یہاں بھی ہم نے اطلاع دے دی تھی کہ کھانے کا انتظام ہم نے کیا ہوا ہے رستہ میں ہم ایک جگہ پرڑ کے۔مجھے علم تھا کہ ہمارے پاس کوئی تھال وغیرہ نہیں۔میں نے کہا۔مسٹر کنزے آج آپ کو پاکستانی طرز پر ہی کھانا کی کھانا پڑے گا اور ہم بڑی بے تکلفی سے روٹی پر ہی سالن ڈال کر کھا لیتے ہیں۔مسٹر کنزے نے کہا تی ہاں میں پاکستانی طرز پر ہی کھاؤں گا بلکہ انہوں نے کہا۔جرمن قوم میں بھی اتنا تکلف نہیں پایا جاتا۔پھر مجھے معلوم ہوا تھالیاں بھی ہمارے ساتھ ہیں اور ہم نے تھالیوں میں سالن ڈال کر کھانا کھایا لیکن یہ ہاتھ پر ہی روٹی رکھ کر کھانے کو تیار تھے۔باقی امور میں بھی یہ نقل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ان میں اخلاص بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔نماز کے بھی پابند ہیں اور زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہر ایک بات کے متعلق پوچھتے رہتے ہیں۔انگلستان کی نسبت جرمن اسلام کی طرف بہت زیادہ راغب معلوم ہوتے ہیں۔انگلینڈ میں ہمارا مشن ۱۹۱۸ ء سے قائم ہے اور اس تیس سال کے عرصہ میں ہم متواتر ناکام رہے ہیں۔یوں تو بعض لوگ اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں لیکن اسلامی روح اُن میں پیدا نہیں ہوئی۔وہ صرف ی ایک سوسائٹی سمجھ کر اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں اور نام کے مسلمان ہو جانے کے بعد سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اسلام پر بہت زیادہ احسان کر دیا ہے اب ہم سے کسی مزید قربانی کی کوئی خواہش نہیں کر سکتا۔کبھی کوئی جمعہ پڑھ لیا یا کسی عید میں آگئے تو اور بات ہے۔بہر حال اُن میں اسلام کی زیادہ رغبت نہیں پائی جاتی بلکہ بعض تو چار چار پانچ پانچ سال کے بعد کبھی کبھی آ جاتے ہیں۔انگلینڈ سے ۳۰ سال کے بعد ہمیں ایک آدمی ملا جس کے اندر اسلام کی حقیقی روح پائی جاتی تھی مگر جرمنی میں وہ پہلے سال ہی مل گیا۔انگلینڈ میں ۳۰ سال کی متواتر کوششوں کے بعد ہمیں بشیر احمد آرچرڈ ملے۔وہ یہاں فوج میں ملازم تھے اور اپنی ملازمت کے دوران میں ہی وہ